بیربل کا فیصلہ ایک دلچسپ داستان

0 42

اور مناسب جگہ تلاش کرنے لگا اُس نے وہ تھیلہ جس میں وہ رقم رکھتا تھا نکال کر حساب کتاب کیا وہ چار ہزار سہنری سکے تھے اُس نے سوچا میں چار ہزار میں سے دوہزار سکے اپنے ساتھ لے جائوں گا کیونکہ گروہ کے دوسرے افراد بھی اتنی ہی رقم ساتھ لے جارہے تھے کو جھ مال کے لیے کافی تھی کیونکہ راستے میں جنگل پڑتے تھے اورساری رقم ساتھ رکھنا مناسب نہیں تھا کہیں ڈاکہ بھی پڑسکتا تھا اور واپسی پر چونکہ وہ تھکا ہارا ہوگا اس لئیے کچھ دن آرام کے دوران بقیہ دو ہزار سکے کام آئیں گے وہ سکون کو ایک جگہ دفن کرنے کا سوچنے لگا پھر سوچا اپنے قریبی دوست سکھ رام کے پاس رکھ دوں تاکہ واپسی پر وہ میری امانت واپس کردے گا اس فیصلے کے بعد وہ مطمیئیں ہوگیا سکھ رام کے پاس گیا

اور اپنی ساری سیکم بتائی کہ وہ چھ ماہ کے لیئے حج کی غرض سے جا رہا ہے اور دوہزار سکے اُکے پاس امانتا رکھوانا چاہتا ہے واپسی پر لے لوگا سکھ رام نے وہ سکے نخوشی رکھ لیے اور وہ آدمی سفر پر روانہ ہوگیا چج ماہ بعد واپس آیا ور سکھ رام سے ملنے گیا اُسے مٹھائی پیش کی اور اپنی رقم کا مطالبہ کیا سکھ رام بولا کون سی رقم وہ آدمی بولا وہی جو میں نے تمیارے پاس امانت کے طور پر رکھوائی تھی سکھ رام بولا دفعہ ہوجائو میرے پاس تمہاری فضول بکواس سننے کا وقت نہیں اور نہ ہی میرے پاس تمہاری کوئی رقم ہے تم نے کسیہ اور کے پاس رکھوائی ہوگی جو تمیہں اب یاد نہیں آرہا وہ آدمی آہزاری کرنے لگا اور بولا سکھ رام خداکے واسطے میری رقم واہس کر د ان کی باتیں سن کر مجمع اکٹھا ہو گیا اور وہ بھی سکھ رام سے کہنے لگے کہ یہ آدمی جھوٹ نہیں بولتا اس کی امانت وپس کر دو لیکن سکھ رام ٹس سے مس نہ ہوا لوگوں نے اُس آدمی سے کہا تم اپنا مسئلہ لے کر راجی بیر بل کے پاس جائو وہ ضرور اس کا صیح فیصلہ کریں گے وہ آدمی بولا کہ میں سادہ اور شریف انسان ہوں

اس لیئے سکھ رام میری سادگی سے فائدہ اُٹھا رہا ہے لوگ دونوں کو لے کر راجہ بیربل کے مکان پر چلے گئے بیربل نے دونوں کی کہانی سنی لیکن کوئی فیصلہ نہ کرسکا کیونکہ سکھ رام بھی اُس کے سامنے معصوم بن گیا بیر بل نے اُس آدمی سے پوچھا جس وقت تم نے امانت سکھ رام کے پاس رکھوائی وہاں کوئی اور موجود تھا آدمی بولا جی نہیں میں اور سکھ رام تھے یہ بات بیر بل کے سکھ رام سے پوچھی سکھ رام بولا حضور ہمارے پاس درختوں اور پرندوں کے سوا کوئی نہ تھا بیربل اُس آدمی سے بولا تہماری رقم کے گواہ صرف پرندے اور درخت ہیں لٰہذا تم جائواور ان گواہوں کو پیش کرو وہ آدمی اہ زاری کرنے لگا کہ پرندے ار درخت کیسے گواہی دیں گے وہ کیسے یہاں چل کر آئیں گے کیا وہ کوئی انسان ہیں وہ آدمی روتا روتا وہاں سے نکل گیا اور کہنے لگا ٹھیک ہے میں پرندوں اور ردختوں سے درخواست کروں گا کہ وہ میری گواہی دیں سکھ رام کہنے لگا حضور وہ شخص جھوٹا ہے اس لیئے اب یہاں سے بھاگ نکلنے کا موقع مل گیا ہے بیربل بولا ہمہإ اُس کا انتظا کرنا چاہئیے سکھ رام بولا ایک گھنٹہ آنے کے لیئے درکار ہوگا اور ایک گھنٹہ جانے کے لیے درکار ہوگا اس لیئے وہ تین گھنٹوں سے پہلے واپس نہیں آسکتا وہ آدمی تین گھنٹوں کے بعد واپس آیا۔

اور بولا میں درختوں اور پرندوں سے التجا کی لیکن کسی نے میری بات نہ سنی سکھ رام مکاری سے بولا اب تم جیل جائو اور آرام کی نیند سوجائو مگر بیر بل نے محافطوں کو اشارہ کیا کہ سکھ رام کو گرفتار کرلیا جائے سکھ رام چلایا مجھے کیوں گرفتارکررہے ہو یہ آدمی جھوٹا ثابت ہوچکا ہے بیربل بولا سکھ رام اس آدمی کے سونے کے سکے واپس کر دو کیونکہ تم جھوٹے ہو سکھ رام بولا آپ مجھے جھوٹا کیسے ثابت کرسکتے ہیں وہ جگہ صرف جانتے ہو وہ باغ جہاں تم نے اس سے رقم لی تھی اسی لئیے تم نے کہا کی یہ دو گھنٹے سے پہلے واپس نہیں آئے گا ایک گھنٹہ جانا اور ایک گھنٹہ آنے میں لگے گا اس سے اس لیے تہماری چوری پکڑی گی

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...