بدگمانی ایک پرسرار کہانی

0 38

میرا ایک دوست راولپنڈی میں رہتا تھا‘ یہ دوست مجھ سے عمر میں سینئر بھی تھا‘ شادی شدہ بھی اور بال بچوں والا بھی‘ میں سردیوں کے دنوں میں اس سے ملاقات کے لیے راولپنڈی آ گیا‘ ہمارا پروگرام تھا ہم دونوں چند دن راولپنڈی رہیں گے‘ اس کے بعد برف باری دیکھنے کے لیے مری چلے جائیں گے اور میں ایک ہفتہ گزار کر واپس بہاولپور آ جائوں گا‘ میں دس گھنٹے کے طویل سفر کے بعد شام کے وقت راولپنڈی پہنچا‘ شہر شدید سردی کی لپیٹ میں تھا‘ میں رکشہ لے کر دوست کے گھر پہنچ گیا‘ اس نے دروازے پر میرا استقبال کیا‘ میں گرم جوشی سے اس سے لپٹ گیا‘ وہ بھی مجھے گلے ملا لیکن میں نے محسوس کیا اس کے معانقے میں گرم جوشی نہیں‘ وہ مجھے اپنی بیٹھک میں لے گیا‘ اس نے چائے کا بندوبست کیا اور میرے سامنے بیٹھ گیا‘ میں اس سے بلا تکان گفتگو کرتا رہا مگر وہ گفتگو میں میرا ساتھ نہیں دے رہا تھا‘ وہ بات چیت کے دوران کھو جاتا تھا‘ میں اس کی غیر حاضر دماغی پر خاموش ہو جاتا تو اسے بڑی دیر تک میری چاپ کا اندازہ نہیں ہوتا تھا‘ اس نے میرے سفر کے بارے میں بھی نہیں پوچھا‘ میرے لیے اس کا یہ ٹھنڈا رویہ پریشان کن تھا

میری پریشانی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اس نے مجھ سے پوچھا ’’ آپ خیریت سے راولپنڈی آئے ہیں‘‘ میرے لیے اس کا سوال بم ثابت ہوا کیونکہ میں اس کی دعوت پر راولپنڈی آیا تھا‘ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا‘ اس نے دوسرا سوال پوچھا ’’ آپ کتنے دن راولپنڈی میں ہیں اور کہاں رہیں گے‘‘ میری پریشانی انتہا کو چھونے لگی کیونکہ میں اس کے گھر ٹھہرنے کے لیے آیا تھا‘ میرا سامان تک اس کے ڈرائنگ روم میں پڑا تھا‘ میں پریشانی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا اور وہ کھوئے ہوئے انداز میں مجھے گھورتا رہا‘ مجھ سے کوئی بات نہ بن پائی تو میں نے جواب دیا ’’ میں ویسے ہی ایک دن کے لیے راولپنڈی آیا ہوں‘ کل واپس چلا جائوں گا اور ہوٹل میں رہوں گا‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور نہایت روکھے انداز میں کہا ’’ آپ اگر مزید ایک دن رک جائیں تو ہم کھانا اکٹھا کھائیں گے‘‘ میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا‘ چائے کا کپ میز پر رکھا‘ اپنا بیگ اٹھایا اور بیٹھک سے باہر نکل گیا‘وہ اپنی کرسی پر بیٹھ کر مجھے جاتے ہوئے دیکھتا رہا‘ اس نے مجھے خدا حافظ تک کہنا مناسب نہ سمجھا‘میں شدید غصے میں تھا‘ میں وہاں سے مری روڈ پر آیا‘ وہاں سستاسا ہوٹل لیا‘ نیند کی گولی کھائی اور گہری نیند سو گیا۔میں اگلے دن بہاولپور واپس آ گیا مگر مجھے دوست کے رویے نے اندر سے بری طرح توڑ دیا‘ میں اس شخص کو دنیا کا بدتمیز ترین‘ غیر مہذب ترین اور مطلبی سمجھنے لگا‘ میں اپنے آپ کو بے وقوف بھی سمجھتا تھا اور اس بے وقوفی پر اپنے اوپر لعن طعن بھی کرتا تھا‘ میں دو ڈھائی سال تک اپنے ملنے والوں کو یہ واقعہ سناتا رہا اور لوگ مجھ سے ہمدردی اور اس شخص سے نفرت کرتے رہے‘

آپ بھی اگر اس صورتحال کا تجزیہ کریں تو آپ کو بھی مجھ سے ہمدردی اور اس شخص سے نفرت ہو جائے گی۔ میں طویل عرصے تک اپنے دل میں اس دوست کے خلاف نفرت پال کر پھرتا رہا لیکن پھر اس نفرت کا عجیب ڈراپ سین ہوا‘ میں یونیورسٹی سے فارغ ہو کر صحافت میں آگیا اور ایک دن وہ دوست ہمارے ایک مشترکہ دوست کے ساتھ میرے دفتر آ گیا‘ میں اسے دیکھتے ہی غصے سے ابل پڑا مگر وہ میرے گلے لگا اور نرم آواز میں بولا ’’آپ اپنے غصےکو چند منٹ کے لیے سائیڈ پر رکھ دو اور میری بات سن لو‘ اگر تم اس کے باوجود مجھے غلط سمجھو تو پھر تم اپنی نفرت کا سلسلہ جاری رکھ لینا‘ میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا‘ وہ بولا ’’ میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں‘ میری چھ بہنیں تھیں‘ والدین نے میری شادی 20 سال کی عمر میں کر دی‘میرے والدین پوتا چاہتے تھے۔

لیکن شاید اللہ کو منظور نہیں تھا‘ میرے ہاں اوپر تلے تین بیٹیاں پیدا ہو گئیں مگر میں مایوس نہ ہوا‘ میں اپنے والدین کی خواہش پوری کرنا چاہتا تھا‘ میں25 سال کی عمر میں چوتھی بار باپ بن گیا ‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے اولاد نرینہ سے نوازا‘ میرا پورا خاندان خوش ہو گیا‘ میرا بیٹا خاندان بھر کی گود میں پل کر دو سال کا ہوا لیکن پھر اسے تیز بخار ہوا اور وہ میری گود میں بیٹھا بیٹھا فوت ہو گیا‘ میرے پورے خاندان کی جان نکل گئی‘‘ وہ خاموش ہوا اور میری طرف دیکھنے لگا‘ میرا غصہ ہمدردی میں بدلنے لگا‘ اس نےپوچھا ’’ آپ جانتے ہیں وہ بچہ کس دن فوت ہوا تھا‘‘ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا ۔ وہ بولا’’ وہ بچہ عین اس وقت فوت ہوا جب آپ رکشے سے اپنا سامان اتاررہے تھے‘‘ میری کنپٹی میں آگ لگ گئی‘ اس نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا ’

میرے پاس اس وقت دو آپشن تھے‘ میں آپ کو اپنے دکھ میں شریک کرلیتا‘ آپ بھی ہمارے ساتھ سوگوار ہوجاتے اور آپ کی چھٹیاں خراب ہوجاتیں‘ دوسرا‘ میں آپ سے یہ خبر چھپا لیتا‘ آپ کو ہوٹل جانے پر مجبور کردیتا‘ آپ مجھ سے وقتی طور پر ناراض ہو جاتے لیکن آپ کی چھٹیاں اور وقت برباد نہ ہوتا‘ میں دوسرے آپشن پر چلا گیا‘ میں نے اپنے خاندان سے کہا میرا مہمان آیا ہے آپ کے رونے کی آواز بیٹھک تک نہیں جانی چاہیے‘ میں اسے واپس بھجواتا ہوں اور ہم اس کے بعد اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو اطلاع دیں گے‘‘وہ رکا‘ اس نے لمبی سانس لی اور بولا’’ میں نے آپ کے لیے ان حالات میں چائے کیسے تیارکروائی آپ اندازہ نہیں کرسکتے‘ میری بیوی‘ میری ماں اور میری بہنیں اندر منہ پر سرہانے رکھ کر رورہی تھیں اور میں آپ کے پاس بیٹھا تھا‘ میں بار باراندر جاکر انھیں چپ کرانے کی کوشش بھی کررہا تھا‘ میں اس وقت گہرے صدمے میں تھا چنانچہ مجھے آپ کی باتیں سمجھ نہیں آرہی تھیں‘ آپ جب ناراض ہوئے اور آپ نے اپنا سامان اٹھایا تو میری ٹانگیں بے جان ہو گئیں‘ میںآپ کے ساتھ اُٹھ کرباہر تک نہ جاسکا‘ میں کرسی پر بیٹھا رہا‘ آپ جوں ہی گلی سے باہر نکلے‘ میرے اندر سے چیخ نکلی اور اس کے بعد میرے پورے خاندان نے ماتم شروع کردیا‘ یہ گہرا صدمہ تھا‘ اس صدمے نے پہلے میری ماں کی جان لی۔

اور اس کے چند ماہ بعد میرے والد بھی فوت ہوگئے‘ پھر میری بیوی بیمار ہوگئی اور میں پے درپے صدموں کا شکار ہوتا چلا گیا‘ میں اب ذرا سا سنبھلا ہوں تو میں اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کے لیے آپ کے پاس آگیا‘‘۔ وہ خاموش ہوا تو میری آنکھیں برسنے لگیں‘ میں اس کے صبر‘ اس کی ہمت پر حیران تھا‘ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی نعش اندر چھوڑ کرمیری خدمت کرتا رہا اور میں ڈھائی سال تک اسے مطلبی‘ جاہل‘ ظالم اور بدتمیز سمجھتا رہا‘ میں اس سے نفرت کرتا رہا. ہم دوسروں کے بارے میں اتنی دیر میں رائے قائم کرلیتے ہیں جتنی دیر میں مرغی کا انڈا بوائیل نہیں ہوتا…

دوسری کہانی “یہ کیا ہے؟” رئیس عثمانی صاحب نے ایک برتن کی دکان کے اندر رکھے ہوئے روٹی بنانے کے کالے توے کی طرف اشارہکرتے ہوئے پوچھا…میں ان کے اس غیر متوقع سوال پر تھوڑا سا بوکھلا گیا…”جی … یہ؟ ” پھر تھوڑا سمبھلتے ہوئے میں نے کہا…
“حضرت! یہ روٹیاں پکانے کا توا ہے….”مسکرائے … کہنے لگے…”آپ نے زندگی میں کبھی خریدا ہے؟””میں نے؟” میں سوچ میں پڑ گیا…” ہاں… غالبا” ایک بار…… جب میں اپنے والدین سے الگ ہوا تھا… اور اپنا گھر نئے سرے سے بسایا تھا”عثمانی صاحب کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگے…”صرف ایک بار ؟ اب تک کی پوری زندگی میں؟”میں نے کہا….”جی بالکل…. ایک ہی بار…”عثمانی صاحب کہنے لگے…”اور آپ سے پہلے غالبا” آپ کے والدین نے بھی زندگی میں ایک یا دو بار ہی یہ چیز خریدی ہوگی؟”میں نے کہا… “یقینا” …..یہ ایسی چیز تو ہے نہیں جو روز خریدی جائے”

عثمانی صاحب کے ہونٹوں پر پھر تبسم پھیل گیا…. کہنے لگے…”یہی بات میں آپ کو سمجھانا چاہ رہا تھا کہ ایک ایسی چیز کہ جس کے خریدنے کی ضرورت ایک خاندان کو بمشکل زندگی میں ایک یا دو بار پڑتی ہے…… (آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) صدقے جائیے اس رزاق کے ….یہ جو دکاندار ہے نا برتن والا…. یہ روز کے پندرہ بیس توے بیچتا ہے…. کتنے؟”میں نے دہرایا…”پندرہ بیس”کہنے لگے…” جی بالکل…… پندرہ بیس…. وہ کون لوگ ہیں جو اس سے خرید کے جاتے ہیں… آپ کہیںگے کہ شہر بڑا ہے ….ضرورت نکلتی رہتی ہے….. مگر سوچئیے کہ وہ کون ہے جو ضرورتیں پیدا کرتا ہے…. اور ان ضرورتوں کے بہانے لوگوں کی روٹی روزی کا بندوبست کرتا ہے… بیٹھے بٹھائے گھر کی استری خراب ہوجاتی ہے… کبھی پنکھا چلتے چلتے بند ہوجاتا ہے…. بجلی کی اشیاء مرمت کرنے والے کے پاس جانا پڑتا ہے… اس کی دہاڑی لگ جاتی ہے… سو روپے…. ڈیڑھ سو روپے…. اس کو اس کے بیوی بچوں کو بھی رزق پہنچتا ہے… گھر سے نکلے پتا چلا بائیک کا یا گاڑی کا ٹائر پنکچر ہے…. پنکچر والے کو روزی ملتی ہے…آپ اس کے دینے کے انداز تو دیکھو”۔

عثمانی صاحب کی بات کرتے کرتے آواز بھرا گئی… اور آنکھیں بھی بھیگ گئیں… میرے منہ سے بے اختیار “سبحان اللہ” نکلا”….میں نے کہا…”واہ…… عثمانی صاحب آپ نے رازق کے رزق دینے کے انوکھے انداز کی طرف اشارہ کیا ہے… جو ہم کبھی غور نہیں کرتے”عثمانی صاحب کہنے لگے…”یہی میں آپ کو سمجھا رہا تھا سمانا صاحب! آپ جو کہہ رہے تھے نا کہ آپ کا کاروبار بالکل ٹھپ ہوگیا ہے… اب کیا ہوگا… “میں نے ہنستے ہوئے مداخلت کی…’کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام ،مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا”عثمانی صاحب بھی ہنس پڑے

“جی بالکل.. بالکل…… آپ نے اور کچھ کرنا بھی نہیں ہے … یہی کام کرتے رہئیے… محبت اور صرف محبت…… اپنے کام سے… اپنے فرائض سے… اپنے لوگوں سے………. محبت ہی کرتے رہئیے…. اور پھر نتائج اس رازق پر چھوڑ دیجئے….. وہ دے کے بھی آزماتا ہے… اور نہیں دے کے بھی…. صبر اور شکر…… یہ دو ہی چیزیں ہمارے بس میں ہیں… اور ہمارے شایان_شان بھی… رونا دھونا… شکایتیں کرنا… ناشکروں کا کام ہے.”میں نے رک کے عقیدت سے ان کا ہاتھ تھاما…اور اپنی آنکھوں سے لگایا… “حضرت! آپ نے آج مجھے نیا حوصلہ دیا ہے .. آپ سلامت رہیں”

۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...