ہر بھکاری ’فراڈیا‘ نہیں، کیونکہ ۔۔۔

0 66

’’بیٹا! 62 سال کا ہوگیا ہوں، تین بیٹیاں گھر پر بیٹھی ہیں، جن کی شادی کی عمر تقریباً نکل چکی ہے۔ اِن کی ماں ہیپاٹائٹس کے باعث بستر پر لگی ہے، کوئی بیٹا نہیں ہے جو بڑھاپے کا سہارا بنتا، گھر کرائے کا ہے۔ جب تک ہمت تھی تب تک مزدوری کی، اب نہیں ہوتی، ایسی صورت میں مانگوں نہ تو کیا کروں؟ لوگ روز یہاں دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اِس کا تو روز کا کام ہے، تو بیٹے بھوک بھی تو روز ہی لگتی ہے نہ؟ ہر طرح کی باتیں سُن چکا ہوں اِس دنیا کی، اب بس تھک گیا ہوں۔ ہاں! اب کہتا ہوں میں فراڈیا ہوں اور لوٹ رہا ہوں دنیا کو اللہ کے نام پر‘‘

دیگر افراد کی طرح میری بھی بھکاریوں کے حوالے سے ایک ہی رائے تھی کہ یہ سب فراڈیے ہوتے ہیں، عادی اور پیشہ ور ہوتے ہیں۔ اِن کا اپنا کام کرنے کو دل نہیں کرتا اور مانگنے چل پڑے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب باتیں دماغ میں لئے میں خود کو بہت عقلمند تصور کرتا تھا۔ بعض اوقات جب کسی بھکاری کو دھتکار دیتا تو اندر ہی اندر فخر بھی محسوس ہوتا کہ چلو آج کسی مکار کے ہاتھوں لٹنے سے تو بچ گیا۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ میں نے اِسی سوچ کے ساتھ گزار دیا لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب لگا کہ شاید آنکھیں کُھل گئی ہیں۔

گھر کے قریبی بازار جہاں آنا جانا رہتا ہے، وہاں اکثر ہی ایک باریش بابا جی مانگتے نظر آتے تھے، میں چونکہ عقلِ کُل واقع ہوا تھا، لہٰذا کبھی رُک کر پوچھنے کی جسارت نہیں کی۔ کبھی جیب میں پانچ، دس روپے ہوئے تو پکڑا دیئے نہیں تو ایک نظر ڈال کر سیدھا چل دیا۔ ایک بار گزرتے ہوئے پتا نہیں کیا سوجھی کہ پوچھ ہی بیٹھا،

’’بابا جی مانگتے کیوں ہو، کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟‘‘

بات کو مزید وزنی بنانے کے لئے ساتھ ہی ایک دو جگہ پر مزدوری کرکے کھانے والے بزرگوں کی مثالیں بھی دے ڈالیں، جس کے جواب میں بابا نے جو کچھ کہا وہ میں اوپر تحریر کرچکا ہوں۔

ایسا جواب سننے کے بعد میں مزید وہاں کھڑا نہیں ہو پایا۔ ایک اَن پڑھ فقیر نے مجھ جیسے ’’تعلیم یافتہ اور باشعور‘‘ شخص کو چپ کروا دیا تھا۔ بہت عرصے اِنہی سوچوں میں ہی گم رہا کہ آیا بابے کی باتیں سچ تھیں یا محض ایک کہانی۔ ایک بے چینی تھی جو مجھے بے کل رکھتی تھی۔ آخر کار ایک دن حقیقت کا سراغ لگانے نکلا اور تب تک چین نہ لیا جب تک اُس فقیر کا گھر اور اُس کے حالات خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لئے۔

ایسا نہیں کہ گداگروں میں فراڈیے نہیں، اِن پیشہ ور افراد کی ایک بڑی تعداد بازاروں بالخصوص پوش علاقوں میں دیکھی جاسکتی ہے، اور اِن میں 2 سال کے بچے سے لے کر 70 سال کے بزرگ تک شامل ہوتے ہیں۔ مانگنے کے ساتھ ساتھ یہ افراد جرائم پیشہ سرگرمیوں میں بھی ملوث پائے گئے ہیں یا یوں کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ ایک مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں، جس کا سدِباب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے کہ یہ لوگ گداگری پر مجبور نہ ہوں اور جو پیشہ ور ہوں اُنہیں سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔

اگر ہم کسی کو کچھ نہیں دینا چاہتے تو کم از کم اُسے رسوا کرنے کا حق بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ اگر تھوڑی سی ریزگاری اِس نیت سے اپنے پاس رکھ لی جائے کہ اللہ کے نام پر دینا ہے تو شاید ہمارے سامنے دستِ سوال دراز کرنے والا کوئی ہاتھ خالی نہ جائے۔ اگر کچھ دینے کو نہیں ہے تو پیار اور نرمی سے انکار کرنا ہی بہتر ہے۔

اگر کہا جائے کہ یہ لوگ ہمیں لوٹ رہے ہیں تو ہمیں کون نہیں لوٹ رہا؟ کپڑے والا ہمیں لوٹ رہا ہے، پھل اور سبزی والا ہمیں لوٹ رہا ہے، ایک نجی کلینک میں بیٹھنے والا ہمارا مسیحا ہمیں لوٹ رہا ہے، ہمارے لئے انصاف کی واحد کرن عدالت میں بیٹھا وکیل ہمیں لوٹ رہا ہے، اور سب سے بڑھ کر ملک کا خادم کہلانے والا، ہمارا منتخب کردہ سیاسی رہنما بھی ہمیں لوٹ رہا ہے۔

الغرض جس کا داؤ لگ رہا ہے وہ لوٹ مار کر رہا ہے تو اگر کسی جگہ پر ہم خدا کے نام پر لُٹ بھی جائیں تو میری دانست میں یہ سودا بُرا نہیں ہے، شاید اِسی بہانے ہماری بخشش کا کچھ سامان بھی ہوجائے کیونکہ میرا ایمان ہے کہ اُسے بھی دینا چاہیئے جو حقدار ہے اور اُسے بھی جو حقدار نہیں ہے، بدلے میں خدا وہ بھی عطا کرے گا جس کے ہم حقدار ہیں اور وہ بھی جس کے ہم حقدار نہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...