شہریار صاحب، یہ دونوں ہی ہمارے ہیرو ہیں!

0 50

میں مانتا ہوں کہ عمر کے ایک حصے پر پہنچ کر انسانی دماغ ٹھیک سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، جب بھی انسان پر ایسا وقت آجائے تو کسی بھی مشکل سے بچنے کے لیے سب سے اچھا اور آسان حل یہ ہے کہ وہ کوشش کرکے خاموشی اختیار کرے، کیونکہ اگر اُس نے ایسا نہیں کیا تو اُس کی زبان سے یقینی طور پر ایسے بیانات جاری ہونگے جن سے ماسوائے شرمندگی کے کچھ اور نہیں ملے گا۔

آج کل ایسی ہی مشکل صورتحال سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین شہریار خان گزر رہے ہیں۔ جناب محترم نے ایک سوال کے جواب میں گزشتہ روز ایک عجیب بیان داغا کہ عمران خان کے مقابلے میں مصباح الحق زیادہ بہتر اور کامیاب کپتان ہیں۔

دیکھیے، کسی بھی سوال کا جواب دینا چئیرمین صاحب کا حق ہے اور یہ حق اُن سے کوئی نہیں چھین سکتا، لیکن اُن کو یہ بات ہر وقت یاد رکھنی چاہیئے کہ جس عہدے پر وہ براجمان ہیں اُس کی ساکھ کا بوجھ بھی اُنہی کے کاندھوں پر ہے۔ میں اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جس کپتان نے ٹیم کو 25 سال پہلے لیڈ کیا اُس کا مقابلہ و موازنہ 25 سال بعد کے کسی کپتان سے کیسے کیا جاسکتا ہے؟ اگر چئیرمین صاحب نے پی سی بی کے ’پیٹرن ان چیف‘ کی خواہش یا اُن کو خوش کرنے کے لیے ایسا کچھ کہا ہے تو بات کو ہم بات یہیں ختم کردیتے ہیں کہ نوکری کی حفاظت کے لیے ’نمک حلال‘ بھی کرنا ہی پڑتا ہے۔

لیکن اگر یہ بیان انہوں نے سنجیدگی اور میرٹ کی بنیاد پر دیا ہے تو کوشش کرتے ہیں کہ اُسی سنجیدگی کے ساتھ چئیرمین صاحب کو کچھ سمجھانے کی کوشش کریں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ میں انتہائی مخلصانہ طور پر سمجھتا ہوں کہ عمران خان اور مصباح الحق کا موازنہ انتہائی غیر منطقی اور فضول سا کام ہے۔ یہ دونوں وہ کپتان ہیں جنہوں نے مشکل دور میں ٹیم کو بلندیوں تک پہنچانے کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ایک نے ایک روزہ کرکٹ میں قومی ٹیم کو ورلڈ چیمپئن بنایا تو دوسرے نے ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیم کو وہ مقام دلایا جو اِس سے پہلے کوئی اور نہیں دلاسکا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں کپتانوں پر پورے کیرئیر میں کبھی کرپشن کے الزام نہیں لگے۔

دونوں کا موازنہ کرنے سے پہلے چئیرمین صاحب کو وقت، حالات اور کھلاڑیوں کی موجودگی سمیت ہر ہر حوالے سے معاملات کو چانچنا چاہیئے تھا۔ یہاں میں یہ بات نہیں کہہ رہا کہ دونوں ہی سُپر ہٹ تھے اور کسی کمی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ کوئی بھی فرد ہر ہر شعبہ میں کامیابی سمیٹنے کی خواہش تو کرسکتا ہے مگر عملی طور پر ایسا کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

جیسے، اگر اعداد و شمار کی روشنی میں بات کی جائے تو یقیناً چئیرمین صاحب کا یہ بیان بالکل ٹھیک ہے، کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں بطور کپتان قومی ٹیم کو سب سے زیادہ فتوحات دلانے کا اعزاز اب مصباح کے پاس ہی ہے، لیکن اچھی کپتانی کو ثابت کرنے کے لیے محض اعداد و شمار ہی سب کچھ نہیں ہوا کرتے، بلکہ اِس سے بڑھ کر بھی کپتان کی کپتانی کو جانچنے کے لیے بہت سے معیارات ہیں۔ جیسے ہمیں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ قومی ٹیم کو مستقبل کے معمار کس نے زیادہ دیے؟ یقیناً مصباح اِس حوالے سے عمران خان کے عشر عشیر بھی نہیں کیونکہ اُن کے پورے کیرئیر میں کوئی ایک بھی ایسا لڑکا نظر نہیں آئے گا جسے ہم وسیم اکرم، وقار یونس یا انضمام الحق کی ٹکر کا کہیں، کیونکہ کھلاڑیوں کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو تلاش کرنے کے میدان میں عمران خان کا ثانی شاید پوری دنیا میں کوئی نہیں۔

مجھے آج بھی انضمام الحق کا وہ بیان یاد ہے کہ 1992ء کے ورلڈ کپ میں ایک میچ میں انضمام ایک چوکا لگا کر آؤٹ ہوگئے اور وہ سخت پریشان تھے کہ اب عمران خان اُن کو ٹھیک ٹھاک ڈانٹ لگائیں گے، بس اِسی ڈانٹ سے بچنے کے لیے وہ عمران خان سے دور دور ہی رہنے لگے۔ لیکن پریشانی اُس وقت ہوئی جب اگلے دن دوسرے شہر جانے کے لیے فلائٹ میں اُن کی سیٹ عمران خان کے برابر تھی۔ انضام کہتے ہیں کہ وہ یہ بات جان کر انتہائی پریشان ہوگئے کہ اب وہ کیا کریں گے؟ لیکن جب فلائٹ نے پرواز بھری تو عمران خان نے انضام سے کہا کہ وہ جو تم نے چوکا لگایا تھا انتہائی خوبصورت شاٹ تھا۔ بس عمران خان نے یہ بات کہی اور وہ سو گئے۔

اِس ایک جملے نے انضمام الحق کو کس قدر حوصلہ فراہم کیا یہ جاننے اور بتانے کے لیے ورلڈ کپ کے اگلے میچوں کی کارکردگی کافی ہے۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اگر مصباح میں یہ کوالٹی نہیں تو اِس کا ہرگز مطلب نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ٹھیک سے سرانجام نہیں دے سکے۔

چونکہ ہم عمران خان کے دور کی کرکٹ اور اُس دور کی باریکیوں کو سمجھنے سے عاری تھے اِس لیے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے، لیکن مصباح الحق کا دور تو بالکل قریب سے دیکھا ہے۔ مصباح نے جس مشکل ترین حالات میں قومی ٹیم کی باگ دوڑ سنبھالی تھی وہ ہر ہر کھلاڑی کے لیے کانٹوں کی سیج ثابت ہوا۔ آپ تصور تو کیجیے، وہ کونسی پریشانی تھی جس کا سامنا اُس ٹیم کو نہیں تھا۔ کپتان اور ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے دو تیز گیند باز کرپشن کے الزام میں جیل جاچکے تھے، ملک میں کرکٹ کے دروازے بند ہوچکے تھے، اور یہ ٹیم ہوم سیریز بھی ملک سے باہر کھیلنے پر مجبور تھی۔ کھلاڑی مایوس تھے، جو اچھے کھلاڑی تھے وہ ٹیم سے باہر ہوچکے تھے، ایسے وقت میں مصاح الحق نے ’علم‘ اُٹھایا اور اِس مشکل وقت میں اُن کا بھرپور ساتھ دیا یونس خان نے۔

ہم نے سنا یہی ہے کہ بڑے و بزرگ لوگوں کو سیدھی راہ پر چلنے کی تلقین کیا کرتے ہیں، لیکن یا تو چئیرمین صاحب ابھی تک خود کو بزرگ ماننے کے لیے تیار نہیں یا پھر جس طرح وہ بطور چئیرمین اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دینے میں ناکام رہے ہیں ویسے ہی بطور بزرگ اُن کی کیا ذمہ داریاں ہیں اُس سے بھی بے خبر ہیں۔

آج بھی پوری قوم 1992ء کے عالمی کپ کی خوشی پر خوش ہوتی ہے، کیونکہ اُس کے بعد اب تک یہ اعزاز قومی ٹیم کو حاصل نہیں ہوسکا ہے۔ یہ 1992ء کے ورلڈ کپ کی کامیابی ہی ہے جس کی وجہ سے عمران خان کو پوری قوم بطور کھلاڑی اچھے نام سے یاد کرتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ صحافی کو جواب دیتے کہ دونوں ہمارے ہی کپتان ہیں، دونوں نے قومی ٹیم کو عزت بخشی ہے، بھلا دونوں میں مقابلہ کیا؟ لیکن ایسا کہنے کے بجائے چئیرمین صاحب نے فوراً ہی مقابلے کی فضا قائم کردی۔

میرا چئیرمین صاحب کو پُرخلوص مشورہ ہے آپ ذاتی خیالات کی تشہیر کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دینے کی کوشش کریں، وگرنہ آپ کے جانے کے بعد بھی لوگ آپ کی کارکردگی کو دیگر بورڈ چئیرمین سے ملانا شروع کردیں گے، اور اگر ایسا ہوا تو شہریار خان صاحب، آپ کو اِس عمر میں بہت دُکھ اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...