گرتے بالوں کو مضبوط اور خوبصورت بنانے کے لیے انتہائی آسان نسخہ سامنے آگیا

0 74

برصغیر پاک و ہند کے معاشروں میں کئی ایسی  عجیب و غریب روایات جڑی ہوئی ہیں جو صدیوں سے لوگوں کی زندگیوں میں شامل ہوتی رہی ہیں جن پر آج بھی لوگوں کی اکثریت یقین رکھتی ہے ان میں ایک انگلیوں کے ناخن کا رگڑنا بھی شامل ہے اور لوگوں کا ماننا ہے کہ انگلیوں کے ناخن رگڑنے سے سر کے بال مضبوط، کالے اور چمکدار ہوتے ہیں۔

ناخن کو رگڑنے سے کچھ اور بھی روایات جڑی ہوئی ہیں، جیسے بچے اس لیے ناخن رگڑتے ہیں کہ بارش ہوجائے یا پھر کچھ لوگ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ناخن رگڑنا خوش بختی کی علامت ہے تاہم ناخن رگڑنے اور بالوں کی صحت کے بارے میں لوگوں میں مختلف روایات  پر یقین رکھتے  ہیں۔

بھارت کے علاقے الہٰ آباد میں یوگا کے دوران بھی لوگوں کو ناخن رگڑنے کی ہدایت کی جاتی ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس سے بال گھنے، چمکدار اور خوبصورت ہوجاتے ہیں جب کہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر انگلیوں کے ناخن 10 منٹ تک رگڑیں تو اس سے نہ صرف بال مضبوط ہوتے ہیں بلکہ گنج پن بھی ختم ہوجاتا ہے، ناخن رگڑنے کے اس عمل کو’’ بالیام ‘‘کا نام دیا جاتا ہے جس میں بال تو بال کے معنی جب کہ یام ورزش کے معنی دیتا ہے اور اسےعام طور پر یوگا کے ماہرین استعمال کرتے ہیں۔

کچھ لوگ تو اس عمل کا سائنسی توجیہ بھی پیش کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب آپ اپنے جسم کے متاثرہ حصوں تک زیادہ توانائی پہنچانا چاہتے ہیں تو جسم کے چند مخصوص حصوں کو مساج کرکے ایسا کرتے ہیں بالکل اسی طرح جب آپ انگلیوں کے ناخن ایک دوسرے سے رگڑتے ہیں تو اس سے پیدا ہونے والی وائبریشن سر کے اوپر حصے کو توانائی پہنچاتی ہے جس سے بالوں کے بڑھنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔

کچھ یوگا ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند اور لمبے بالوں کے لیے خالی پیٹ 2 گھنٹے تک دونوں ہاتھ کے ناخن کو آپس میں تیزی کے ساتھ رگڑیں اور اس عمل میں انگوٹھے کے ناخن کو شامل نہیں کرنا ہے جب کہ اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عمل کو کسی جگہ مخصوص کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی آپ دوران سفر بھی یہ عمل کرسکتے ہے جس سے آپ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی وائبریشن کا اثر اپنے سر میں محسوس کریں گے تاہم اس کے بھر پور اثرات کے لیے آپ کو اپنی بھر پور توجہ اس عمل میں لگانا ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل کو دن میں کم از کم 2 دفعہ دہرائیں اور اس کے نتائج کے لیے آپ کو 3 سے 4 ماہ تک انتظار کرنا ہوگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...