حضورِ اقدسؐ کی مرغوب غذائیں

0 39

حضرت ابوعبیدہ رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضورِ اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے لیے ہانڈی پکائی، چوں کہ آقائے نام دارؐ کو ’’دستی‘‘ کا گوشت بہت زیادہ پسند تھا، اس لیے میں نے ایک ’’ دستی ‘‘ پیش کی، پھر حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے دوسری طلب فرمائی، میں نے دوسری پیش کردی، پھر حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے اور طلب فرمائی، میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ! بکری کی دو ہی ’’ دستیاں‘‘ ہوتی ہیں، حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر تم چپ رہتے تو میں جب تک مانگتا رہتا اس دیگچی سے دستیاں نکلتی رہتیں۔‘‘ (شمائل ترمذی)

حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے گوشت آیا، اس میں سے ’’ دستی‘‘ کا گوشت آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا، حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کو ’’ دستی‘‘ کا گوشت بہت مرغوب تھا ، اس لیے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسے دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا۔ ایک اور حدیث میںآپ صلی ﷲ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ : ’’ گوشت کو دانتوں سے کاٹ کر کھایا کرو کہ اس سے ہضم بھی خوب ہوتا ہے اور بدن کو بھی زیادہ موافق آتا ہے۔

حضرت ام سلمہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پہلو کا بھنا ہوا گوشت حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت پیش کیا، جسے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے تناول فرمایا۔ اسی طرح حضرت عبد ﷲ بن حارث رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضور اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ بھنا ہوا گوشت مسجد میں کھایا۔

گوشت کے بارے میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’ گوشت‘‘ اہل دنیا و اہل جنت کی سب غذاؤں کا سردار ہے۔ نیز آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’ پشت کا گوشت عمدہ گوشت ہوتا ہے۔ ( ابن ماجہ)

حضرت انس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے حضور اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم کی ایک مرتبہ دعوت کی، میں بھی حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوا، اس نے حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں ’’ جو‘‘ کی روٹی اور ’’ کدو گوشت ‘‘ کا سالن پیش کیا، میں نے حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ پلیٹ کے سب اطراف سے ’’ کدو‘ کے ٹکڑے تلاش فرما کر تناول فرما رہے تھے، چناں چہ اس وقت سے مجھے بھی ’’ کدو‘‘ مرغوب ہوگیا۔

حضرت جابر بن طارق رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو ’’کدو ‘‘ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے جارہے تھے، میں نے عرض کیا : ’’ اس کا کیا بنے گا ؟ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ’’ اس سے سالن میں اضافہ کیا جائے گا۔‘‘

حضرت انس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم کو ’’کدو ‘‘ (بہت زیادہ) مرغوب تھا۔ ( چناں چہ) ایک مرتبہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس کھانا آیا یا حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کسی دعوت میں تشریف لے گئے (راوی کو اس میں شک ہے) جس میں کدو تھا، چوں کہ مجھے معلوم تھا کہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ مرغوب ہے اس لیے اس کے قتلے ( ٹکڑے) ڈھونڈ کر میں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے کردیتا تھا۔ (شمائل ترمذی)

حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا : ’’سرکہ‘‘ بھی کیا ہی اچھا سالن ہے۔ ( مسلم) نیز مرفوعاً مروی ہے کہ : ’’اے اﷲ! ’’سرکے‘‘ میں برکت ڈال کہ وہ مجھ سے پہلے انبیاء کا سالن تھا۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ : ’’جس گھر میں ’’سرکہ‘‘ ہو وہ گھر محتاج نہیں ہے۔‘‘

(طب نبوی علامہ ذہبیؒ)

آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کو ’’ ثرید ‘‘ (یعنی شوربے میں توڑی ہوئی روٹی ) بہت زیادہ پسند تھی (سنن ابو داؤد) اسے آپ تمام کھانوں پر فضیلت دیتے تھے۔ چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صل ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے کہ ’’ ثرید‘‘ کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے۔ ( بخاری و مسلم)

حضرت ابو اسید رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ زیتون‘‘ کا تیل کھانے میں بھی استعمال کرو اور مالش میں بھی، اس لیے کہ یہ ایک بابرکت درخت کا تیل ہے۔ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کا تیل کھاؤ اور مالش میں استعمال کرو، اس لیے کہ وہ مبارک درخت سے پیدا ہوتا ہے۔

حضرت عبد ﷲ بن جعفر رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی پاک صلی ﷲ علیہ وسلم ’’ ککڑی‘‘ تازہ پکی ہوئی کھجوروں کے ساتھ تناول فرما رہے تھے۔

(بخاری و مسلم)

حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضورِ اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم ’’تربوز‘‘ کو تازہ کھجوروں کے ساتھ نوش فرماتے تھے۔ حضرت انس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورِ اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم کو خربوزہ اور کھجور اکٹھے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ (شمائل ترمذی)

حضورِ پاک صلی ﷲ علیہ وسلم مغرب کی نماز سے پہلے تر کھجوروں سے روزہ افطار فرمایا کرتے تھے، اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے افطار فرما لیتے تھے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں تو پھر پانی سے روزہ افطار فرمالیا کرتے تھے۔ ( ابو داؤد)

ایک مرتبہ حضور اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی ﷲ عنہ کو ایک ’’ سیب‘‘ عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ: ’’ یہ قلب کو تقویت دیتا ہے ، طبیعت کو خوش کرتا ہے اور سینہ کے کرب کو دور کرتا ہے۔‘‘ ( نسائی)

حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضورِ اقدس صلی ﷲ علیہ کو پینے کی سب چیزوں میں میٹھی اور ٹھنڈی چیز مرغوب تھی۔ بہ ظاہر تو اس حدیث سے ٹھنڈا اور میٹھا پانی مراد ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے شہد کا شربت اور کھجوروں کا نبیذ مراد ہو۔ ( صائل نبوی ترجمہ شمائل ترمذی)

حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت خالد بن ولید رضی ﷲ عنہ دونوں حضورِ اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ (اپنی خالہ) حضرت میمونہ رضی ﷲ عنہا کے گھر گئے، حضرت میمونہ رضی ﷲ عنہا ایک برتن میں دودھ لے کر آئیں ، حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس میں سے نوش فرمایا، میں دائیں جانب تھا اور حضرت خالد بن ولید بائیں جانب، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اب پینے کا حق تمہارا ہے ( کہ تم دائیں جانب ہو) اگر تم اپنی خوشی سے حضرت خالد بن ولید کو ترجیح دینا چاہو تو دے سکتے ہو، میں نے عرض کیا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے جھوٹے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ حضور پاک صلی ﷲ علیہ وسلم نے دودھ کی بہت تعریف فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ دودھ کے علاوہ مجھے کوئی ایسی چیز معلوم نہیں جو کھانے اور پینے دونوں کی طرف سے کافی ہوجائے۔ (سنن اربعہ) ایک روایت میں آتا ہے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ گائے کا دودھ شفاء ہے اور اس کا گھی دوا ہے۔‘‘ (طب نبوی امام ذہبیؒ)

حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کو ’’پنیر‘‘ کا ٹکڑا نوش فرماتے دیکھا ہے۔ چناں چہ ایک مرتبہ تبوک کے سفر میں آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں پنیر لایا گیا آپ نے چاقو منگوایا اور بسم ﷲ الخ کہہ کر اس کا ٹکڑا کاٹا۔ ( ابو داؤد)

حضرت انس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی ﷲ عنہا کا ولیمہ کھجور اور ستو سے فرمایا تھا۔ ایک روایت میں ’’ حیس‘‘ نامی حلوہ کا ذکر آیا ہے جب کہ ایک دوسری روایت میں ’’پنیر‘‘ کا نام آیا ہے۔ (خصائل نبوی )

حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حلوہ اور شہد پسند فرماتے تھے۔ ‘‘ (بخاری)

ایک روایت میں آیا ہے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ’’ تم پر لازم ہے کہ دو شفاء دینے والی چیزوں کو استعمال کرو ایک ’’شہد‘‘ اور دوسرا ’’قرآن۔‘‘

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ : ’’اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی چیز میں خیر ہوتی تو ’’سینگی‘‘ لگوانے اور ’’شہد‘‘ پینے میں ہوتی۔‘‘ (بخاری و مسلم)

ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کو مکھن اور چھوہارہ  مرغوب تھا۔

ایک اور جگہ مروی ہے کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کو انگور اور تربوز پسند تھا۔ (طب نبوی علامہ ذہبیؒ)

صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی پاک صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’کلونجی‘‘ کا استعمال کیا کرو کہ اس میں سوائے موت کے باقی تمام بیماریوں سے شفا ہے۔‘‘

ایک مرتبہ شاہِ روم نے زنجبیل (ادرک ، سونٹھ) کا ایک بھرا ہوا گھڑا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیۃً بھیجا ، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کا ایک ایک ٹکڑا سب کو کھانے کے لیے عطا فرمایا۔ ( طب نبوی علامہ ذہبیؒ)

حضرت طلحہ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ : ’’ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مجھے ’’بہی‘ ‘ کا ایک دانہ عنایت فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ : ’’اسے لے لو ! کیوں کہ یہ دل کو راحت پہنچاتا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ)

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...