سیاسی کرکٹ بورڈ پر سیاسی اثرات

0 79

آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ آسٹریلوی وزیر اعظم سیاسی مشکلات کا شکار ہوئے تو کرکٹ بورڈ حکام کی بھی نیندیں اڑ گئیں، یا انگلینڈ میں حکومتی کی تبدیلی کرکٹ بورڈ میں بھی تبدیلیاں کرا گئی، زیادہ دور کیوں جائیں پڑوسی ملک بھارت تک میں ایسا نہیں ہوتا، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا ہی ہے، یہاں چونکہ سیاسی بنیادوں پر تقرریاں ہوتی ہیں لہٰذا حکومت کے مسائل کا اثرکرکٹ بورڈ پر بھی پڑتا ہے،اب حالیہ حالات دیکھ لیں، سب کچھ اسکرپٹ کے مطابق چل رہا تھا، بیچارے شہریارخان نے نہ چاہتے ہوئے بھی استعفیٰ دیدیا تھا، نجم سیٹھی چیئرمین کے کمرے میں پھر براجمان ہونے کا ارمان پورا ہونے کا سوچ کر خوشی سے سرشار تھے، ایسے میں اچانک پانامہ اسکینڈل کا فیصلہ آیا اور ملک میں سیاسی ہلچل عروج پر پہنچ گئی۔

رہی سہی کسر ڈان لیکس رپورٹ کے بعد والے حالات نے پوری کر دی، اب وزیر اعظم خود کو بچائیں یا نجم سیٹھی کو چیئرمین بنائیں، جہاز میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ ’’ ایمرجنسی کی صورت میں پہلے خود آکسیجن ماسک لگائیں پھردوسروں کی مدد کریں‘‘ صاف ظاہر ہے کہ ابھی اپنے لیے ماسک ڈھونڈا جا رہا ہے تاکہ حکومت بچائی جا سکے پھر کسی اور کی باری آئے گی ، ایسے میں کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری تو ترجیحات کی فہرست میں شاید سب سے آخری نمبر پر آئے، ویسے بھی حکومت نے کبھی کرکٹ معاملات پر توجہ نہیں دی اسی لیے وہ ابتری کا شکار ہو گئے تھے، موجودہ حالات میں نجم سیٹھی کو چیئرمین بنانا ’’آ بیل مجھے مار‘‘ کے مترادف ہو گا، ویسے موجودہ حکمرانوں سے کوئی بعید نہیں لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پی سی بی میں تبدیلی کا معاملہ وقتی طورپر ٹل گیا ہے، اگست میں شہریارخان اور گورننگ بورڈ دونوں کی میعاد مکمل ہو جائے گی۔

موجودہ ممبران سے حق میں ووٹ لینا نجم سیٹھی کیلیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، البتہ قریبی حلقے کہتے ہیں کہ انھیں چیئرمین بنانے کا فیصلہ ہو چکا، نئے گورننگ بورڈ ارکان کی فہرست میں بھی اپنے ہی لوگ شامل ہوںگے، وزیر اعظم ہاؤس سے ایک بار پھر نجم سیٹھی و کسی اور ہم خیال کی تقرری کا پروانہ آ جائے گا، الیکشن میں کوئی اور حصہ لینے کی کوشش ہی نہیں کرے گا اور وہ بلامقابلہ منتخب ہو جائیں گے، دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ گورننگ بورڈ میں کوئی ایک کرکٹر بھی شامل نہیں، یہ کیا بات کسی مذاق سے کم ہے، بیچارے سابق کرکٹرز سے مثبت کام لینے کے بجائے انھیں مدح سرائی میں لگا دیا گیا ہے۔

اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ ایک صحافی کرکٹ بورڈ چلا رہا ہے اور کرکٹرز مختلف چینلز پر صحافیوں والا کام کر رہے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں لیکن کیا ہی اچھا ہوکہ گورننگ بورڈ میں2 سے 3 سابق کرکٹرز کو رکھیں اور بورڈ کی مینجمنٹ میں بھی شامل کریں، یقیناً اس سے بہتری آئے گی، تنقید ختم کرنے کیلیے بورڈ نے سابق کرکٹرز کی کرکٹ کمیٹی بنائی تھی جس کے ارکان کو خود نہیں پتا کہ انھیں کیا کام کرنا ہے، ایک یا 2 ہی میٹنگز ہوئی ہوں گی، وہاں بھی ندیم خان جیسے لوگوں کو نوازا گیا، حکومت کو اب کرکٹ بورڈ کی بڑی پوسٹ پر کسی کھلاڑی کو ہی لانا چاہیے۔

ظہیر عباس آئی سی سی کے کاغذی ہی سہی مگر صدر تو بن چکے، پنجاب حکومت کیلیے وہ اکیڈمیز وغیرہ بھی بنا رہے ہیں، انھیں کرکٹ معاملات کا خاصا تجربہ ہے، سب سے بڑی ’’کوالٹی‘‘ یہ ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے اپنے ’’آدمی‘‘ ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خاصے قریب ہیں، کئی بار چیئرمین بننے کی خواہش بھی ظاہر کر چکے،انھیں ایک موقع دے کر تو دیکھیں،کسی صحافی سے تو اچھے ہی ثابت ہوں گے، اب کرکٹ بورڈ میں تبدیلی آئے تو مکمل آنی چاہیے، اعلیٰ حکام اور ان کی جی حضوری کرنے والے تمام خوشامدی ملازمین کو ساتھ جانا چاہیے، نیا چیئرمین شفافیت لاتے ہوئے قابل افراد کا تقرر کرے، یہ نہ ہو کہ جیسے اشتہار جاری ہونے سے قبل ہی سب جانتے تھے کہ ہارون رشید کو ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز بنا دیا جائے گا ویسے ہی لوگ آ جائیں، تمام سفارشیوں کی چھٹی کرنی چاہیے تب ہی بہتری کی کوئی امید رکھی جا سکتی ہے۔

شخصیات نہیں ادارے اہم ہوتے ہیں، پی ایس ایل کا پروجیکٹ ذکا اشرف نے شروع کیا لیکن وہ اسے مکمل نہ کر سکے، پھر نجم سیٹھی نے اسے آگے بڑھایا لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دونوں کے ساتھ پی سی بی کا ٹیگ جڑا تھا، انفرادی حیثیت میں ایسا ممکن نہ تھا، سرمایہ بورڈ کے خزانے سے آیا، غیرملکی کرکٹرز کو اجازت بورڈ کے نام پر ملی،آئی سی سی نے منظوری پی سی بی کو دی، ملازمین بورڈ کے استعمال ہوئے، کوئی ایسے ہی اٹھ کر اعلان کرے کہ میں ٹی ٹوئنٹی لیگ کرا رہا ہوں تو کامیاب نہیں ہو سکتا، کمپنی بنانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے اسے پی سی بی کے ساتھ ہی منسلک رکھیں ، شخصیت سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، بھارت کی مثال دیکھ لیں وہاں للت مودی نے آئی پی ایل کو شروع کرایا آج وہ کہاں اور کس حال میں ہیں سب جانتے ہیں مگر ایونٹ کا انعقاد کامیابی سے جاری ہے، فکسنگ تو ہر ٹی ٹوئنٹی لیگ کے ساتھ ورثے میں آتی ہے۔

بدقسمتی سے ہماری پی ایس ایل بھی اس کی لپیٹ میں آچکی، افسوس کی بات یہ ہے کہ جاری اسکینڈل سامنے آنے پر بلند وبانگ دعوے کیے گئے جو سب جھوٹے ثابت ہوئے، کئی ماہ گزرنے کے باوجود کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا، اسی لیے الزام کی زد میں آئے ہوئے کھلاڑی بھی اب پُراعتماد دکھائی دے رہے ہیں کہ کلیئر ہو جائیں گے، کرپشن ختم کرنے کیلیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے، ٹیم کس مقام پر کھڑی ہے چیمپئنز ٹرافی میں واضح ہو جائیگا، جس طرح ملک کے دیگر شعبوں میں تبدیلی کا مطالبہ ہو رہا ہے کرکٹ بورڈ میں بھی ایسا ہونا چاہیے، شہریارخان خود جارہے ہیں، حالات اس مقام پر پہنچ چکے کہ آئی سی سی میٹنگ کی کامیابی کا کریڈٹ چھننے کے ڈر سے انھیں اپنے گھر پر پریس کانفرنس کرنا پڑی، اب میرٹ پر چیئرمین کی تقرری یقینی بنانی چاہیے، میاں صاحب اگر آپ نے ایسا کر دیا تو یہ کرکٹ پر احسان ہوگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...