آئیے، سیلفی کے دور سے پتھر کے دور میں چلتے ہیں

0 17

’’سارہ اپنی دوست کے ساتھ انسٹیٹیوٹ جاتے ہوئے فٹ پاتھ پر تیز تیز قدموں سے چل رہی تھی کہ برابر سے ایک موٹر سائیکل گزری، جس پر بیٹھے شخص نے ایک پچکاری ماری اور ساری پیک سارہ کے لباس کو داغدار کرتی چلی گئی۔ اِس انتہائی غیر اخلاقی حرکت کے بعد اُس شخص نے پیچھے مڑ کر قہقہہ لگایا اور موٹر سائیکل روکے بغیر چلا گیا، اور سارہ جس کا اُس دن ایک اہم لیکچر تھا، کو واپس گھر جانا پڑا، کیونکہ اِس حالت میں وہ انسٹیٹیوٹ نہیں جاسکتی تھی۔‘‘

’’عمران صاحب پارکنگ میں اپنی گاڑی کھڑی کرکے شاپنگ مال کے اندر گئے اور جب واپس آئے تو اُن کی گاڑی کے پیچھے ایک اور گاڑی کھڑی تھی، جس کو ہٹائے بغیر وہ اپنی گاڑی نہیں نکال سکتے تھے۔ گاڑی کے مالک کی تلاش میں اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں لیکن صاحب دوسروں کا راستہ بند کرکے غائب ہوچکے تھے۔ آدھے گھنٹے انتظار کے بعد اُس گاڑی کے مالک تشریف لائے تو عمران صاحب کی جان بخشی ہوئی۔‘‘

’’ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں پانچ، چھ لڑکیوں کا ایک گروپ لائبریری کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھا بلند آہنگ قہقہوں اور باتوں کے ساتھ کینٹین سے لی گئی فرنچ فرائز، برگر اور کولڈ ڈرنک سے انصاف کررہا تھا۔ سب چیزیں کھانے کے بعد خالی ڈبے اور کین وہیں چھوڑ کر وہ لوگ اُٹھ گئے۔ کچھ ہی فاصلے پر خالی کچرا دان موجود تھا اور چیخ چیخ کر اپنے استعمال نہ ہونے پر نوحہ کُناں تھا۔‘‘

’’سڑک پر ایک ہجوم جمع تھا۔ ایک حادثہ ہوا، جس میں ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان شدید زخمی حالت میں سڑک پر پڑا تڑپ رہا تھا۔ اُس کے ارد گرد بہت لوگ تھے اور اپنی اپنی تجاویز دے رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا ایمبولینس بلاؤ، کسی نے کہا پہلے پولیس کو اطلاع کرنا چاہیئے۔ نوجوان کا خون مسلسل بہہ رہا تھا لیکن کوئی اُسے اسپتال لے جانے کے لئے تیار نہ تھا کہ وہ خود کسی مصیبت میں نہ پڑجائیں۔ آدھے گھنٹے بعد پولیس آئی تو اُس کو اسپتال لے کر گئی، لیکن اُس وقت تک نوجوان کی روح پرواز کرچکی تھی۔‘‘

’’بس میں ایک ضعیف شخص کھڑا ہوا تھا۔ جب بھی کوئی سیٹ خالی ہوتی، دھکم پیل کرکے کوئی نہ کوئی اُس پر قبضہ کرلیتا۔ وہ شخص معمر اور کمزور ہونے کے باعث آگے نہیں بڑھ پاتا۔ ایک گھنٹے کے اِس سفر میں نشستوں پر بیٹھے کسی ’انسان‘ کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ اُس بزرگ اپنی جگہ پر بٹھا دے۔‘‘

یہ وہ چیدہ چیدہ بے حسی کے واقعات جو ہمارے ارد گرد اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ ہوش سنبھالنے کے بعد سے ہم نے تو اپنا معاشرہ ہمیشہ ایسا ہی بے حس دیکھا ہے، مگر نانی، دادی سے سُنا ہے کہ پہلے ہمارے یہاں صورتحال ایسی خراب نہ تھی۔ لوگوں کے درمیان وضع داری، مروت اور احساس ہمدردی موجود تھی۔ لیکن آج کی تیز رفتار اور کئی لحاظ سے سہل زندگی میں خود غرضی اور بے حسی تقریباً ہر انسان کا وطیرہ بن چکی ہے۔

آج کل سیلفی یعنی خود پسندی، خود غرضی کا دور ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں لوگ گھروالوں سے بھی واٹس ایپ پر گفتگو کرتے ہیں، بالمشافہ نہیں۔ آج کی جدید دنیا میں جب کسی ڈوبتے انسان کو دیکھا جائے تو فٹافٹ تصویر لے کر فیس بُک پر وائرل کردی جاتی ہے لیکن ہاتھ بڑھا کر اُسے بچایا نہیں جاتا۔

کسی نے کیا خوب بات کہی ہے کہ یہ بہت عجیب سی بات ہے کہ ہم اپنے بارے میں تو انتہائی حساس واقع ہوئے ہیں لیکن جہاں بات کسی اور کی آتی ہے تو ہم انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ آج ضرورت اِس بات کی ہے کہ اپنے اندر برداشت، تحمل اور بے لوث مدد کے رویے پیدا کئے جائیں اور یہ کام بے شک نئی نسل کے ہاتھوں ہی انجام پائے گا۔

ترقی اور جدت کے چکر میں انسانیت کو رد نہ کریں۔ آئیے جو خوبصورت اور اچھے اقدار ہیں، چاہے وہ کتنے ہی قدیم کیوں نہ ہوں انہیں دوبارہ اپنالیتے ہیں۔ اگر ہمدردی اور مدد پتھر کے دور میں ہوا کرتی تھی تو چلیں سیلفی کے اس بے حس زمانے سے پتھر کے دور میں واپس چلتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...