دانت موتی کی طرح سفید اورچمکدار بنانے کے 6 آسان طریقے

0 53

لندن: 

کہتے ہیں ایک خوبصورت مسکراہٹ انسان کے چہرے کی خوبصورتی میں کئی گنا اضافہ کردیتی ہےاورمسکراہٹ کو دلکش بنانے میں سفید اور چمکدار دانت بنیادی کردار ادا کرتے ہیں تاہم دانتوں کی صحت برقرار رکھنے کے لئے ان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کی اکثریت دانتوں کو درکار توجہ دینے میں ناکام رہتی ہے جس کی وجہ سے دانتوں کی صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں،ماہرین نے دانتوں کی صفائی کے لئے چند اہم تجاویز دی ہیں جن پر عمل کرکے دانتوں کی صحت کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

برش کرنے کا صحیح طریقہ:

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 3 میں سے ایک فرد صبح دانتوں میں برش نہیں کرتا جبکہ اکثریت غلط طریقے سے برش کرتی ہے جس کی وجہ سے منہ کی خاطر خواہ صفائی نہیں ہوپاتی۔ ماہرین کے مطابق اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کیا جانے والا برش ذیادہ پرانا نہ ہو اور ہر 3 ماہ بعد برش تبدیل کرلیا جائے جبکہ دانت صاف کرتے ہوئے برش کو اوپر نیچے رگڑنے کے بجائے 45 ڈگری کے زاویے میں سیدھا کیا جائے اور دانتوں کے تمام حصوں پر برش کیا جائے اس طرح دانتوں میں موجود بیکٹیریا کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

چیونگم زیادہ دیر چبانے سے پرہیز:

چیونگم کھانے سے منہ کا ذائقہ وقتی طور پرخوشگوار ہوجاتا ہے تاہم زیادہ دیر تک چیونگم چبانا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چیونگم 10 منٹ سے زیادہ چبانا ٹھیک نہیں اور ذائقہ ختم ہوجانے کے بعد اسے پھینک دینا چاہیئے کیونکہ یہ دانتوں کی صحت کے لئے بالکل بھی ٹھیک نہیں کیونکہ دانتوں کی ساخت چیزوں کو توڑنے کے لئے بنائی گئی ہے جبکہ چیونگم لچکدار ہوتی ہے اور زیادہ چبانے کی وجہ سے دانتوں میں ٹوٹ پھوٹ ہوسکتی ہے۔چیونگم چبانے کے دوران ہمارا معدہ ایک قسم کا تیزاب پیدا کرنا شروع کردیتا ہے جو کہ غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے تاہم جب غذا معدے میں نہیں جاتی تو اس کے مضر اثرات معدے کے السر کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔

اسٹرابری اور میٹھے سوڈے کا استعمال:
دانتوں کو چمکدار بنانے کے لئے قدرتی طریقے سب سے بہترین اور کارآمد ہوتے ہیں،اسٹرابری اور میٹھا سوڈا اس حوالے سے بہترین نتائج کے حامل ہیں۔ماہرین نے یہاں ایک نہیات کارآمد ٹوٹکا بتایا ہے ۔ 8 عدد اسٹرابری  اور آدھا چمچ میٹھا سوڈا لے کر ان کا پیسٹ بنا لیں اور روئی کا ٹکڑا لے کر دانتوں پر اچھی طرح ملیں۔ اس طرح نہ صرف آپ کے دانت چمکدار ہوجائیں گے بلکہ سگریٹ ،چائے اور کافی کی وجہ سے دانتوں پر بننے والے دھبے بھی ختم کیے جاسکتے ہیں،اسٹرابری میں پائے جانے والے خاص اجزا دانتوں کو چمکدار بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ناشتے کے بعد دانتوں کی صفائی:

لوگوں کی اکثریت صبح سویرے کچھ بھی کھانے یا پینے سے پہلے برش کرنا پسند کرتی ہے اور یہ صحت کے لئے بھی مفید ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ کھانے یا پینے کے بعد برش کرنا زیادہ مفید ہوتا ہے خاص طور پر اس وقت جب آپ نے میٹھی چیزیں کھائیں ہوں۔اس طرح دانت نہ صرف کیڑا لگنے سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ ان کی مضبوطی بھی برقرار رہتی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ رات کو سونے سے قبل سب سے آخری کام دانتوں کی صفائی ہونا چاہیئے اور اس کے بعد کچھ بھی کھانے یا پینے سے(سوائے پانی کے) پرہیز کرنا چاہیئے ۔اس طرح رات بھر دانت بیکٹیریا لگنے سے محفوظ رہتے ہیں اور دانتوں کا انیمل یا اوپری پرت بھی محفوظ رہتی ہے۔

زبان کی صفائی:
صاف اورمہکتی سانس کے لیئے زبان کا صاف ہونا انتہائی ضروری ہے جبکہ لوگوں کی اکثریت زبان کی صفائی کا خیال ہی نہیں رکھتی،زبان پر برش کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس پر بیکٹریا بڑی تعداد میں جمع ہوجاتے ہیں اور انہی چھپے ہوئے بیکٹیریا کی وجہ سے منہ سے بدبو بھی آنے لگتی ہے۔ دانتوں کی صفائی کے دوران زبان پر بھی برش کرنے سے اس مسئلے سے کافی حد تک نجات پائی جاسکتی ہے جبکہ زبان کی صفائی کے  خصوصی طور پر بنایا گیا آلہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دانتوں میں خلا ل کرنا:
ماہرین دانتوں میں خلا ل کرنے کے عمل کو بھی صحت کے لئے بہترین عمل قرار دیتے ہیں اور اس سے نہ صرف دانتوں کی بہتر طریقے سے صفائی ہوجاتی ہے بلکہ اس سے حیرت انگیز طور پردل کے امراض کے بچاؤ میں بھی مدد ملتی ہے۔دانتوں میں خلال کرنے سے غذا کے پھنسے ہوئے ٹکڑے  جو کہ بیکٹیریا کی افزائش میں مددگار ثابت ہوتے ہیں نکل جاتے ہیں۔برٹش ڈینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر نائجل کارٹر کا کہنا ہے کہ خلال کرنا دانتوں کی صحت مندانہ روٹین کا ایک اہم حصہ ہے اور دانتوں کو برش کرنے سے قبل دن میں کم از کم ایک مرتبہ خلال کرنا ضروری ہے۔ تاہم دانتوں کے درمیان خلا کی صفائی کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور اس کے لیے دانتوں کے لیے خلال کرنے والا مناسب آلہ استعمال کرنا چاہیے کیونکہ کسی غیر معیاری چیز سے یا پھر تیزی سے دانتوں میں خلال کرنے سے مسوڑھوں کے عضلات کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ اگر ان باتوں پر عمل کرلیا جائے تو دانتوں کو صاف اور کیڑا لگنے سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے تاہم اس کے ساتھ ضروری ہے کہ میٹھی چیزوں کے استعمال میں اعتدال کا رویہ اپنایا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...