گھر کو ٹھنڈا رکھیے، ایئرکنڈیشنر کے بغیر!

0 74

جھلسا دینے والی گرمیاں آچکی ہیں۔ بیشتر علاقوں میں پارہ 40 ڈگری سیلسیئس سے اوپر ہے۔ مرد تو کام کاج کے سلسلے میں گھر سے باہر ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں گرمی خواتین کا مزاج خوب پوچھتی ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ بچے بھی سورج کی قہرناکی کا نشانہ بنتے ہیں۔

گرمی سے بچنے کے لیے گھر میں ایئرکنڈیشنر لگوانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، اور اگر لگوانے کی استطاعت ہو تو بجلی کا بل بجلی گرادیتا ہے۔ اگر بجلی کا بل ادا کرنے کی بھی سکت ہو تو بجلی کہاں سے لائیں! اس صورت حال میں درج ذیل اقدامات کے ذریعے آپ گھر کو ٹھنڈا رکھ کر گرمی کے اثر میں خاطر خواہ کمی لاسکتی ہیں۔

٭کھڑکیوں اور دروازوں پر گہرے رنگ کے پردے ڈالیں تاکہ سورج کی روشنی اور تپش اندر نہ آنے پائے۔

٭پنکھوں کے نیچے پانی سے بھرے بڑے بڑے ٹپ رکھ دیں۔

٭پورٹ ایبل پنکھوں کا بھی استعمال کریں۔

٭کچن اور باتھ روم کے ایگزاسٹ فین آن رکھیں۔

٭دن کے اوقات میں بلب وغیرہ جلانے سے گریز کریں۔ اگر ناگزیر ہو تو سبز رنگ کے کم وولٹ کے بلب جلائیں۔

٭ سبز رنگ کے وال پیپرز کا استعمال کریں تو گھر میں ٹھنڈک رہے گی۔

٭فرش کو صبح و شام دھوئیں۔ تین چار بار پونچھا لگائیں۔

٭خس کی چٹائیاں مل جائیں توگھر کی چھت پر پھیلاکر پانی سے بھگودیں۔

٭آٹے والی جوٹ کی بوریاں کھول کر سی لیں اور گھر کی چھت پر بچھادیں۔ پھر انھیں پانی سے بھگو دیں۔ گرمی نیچے نہیں آئے گی۔

٭ چھت پر تھر موپول یا پلاسٹر آف پیرس کے ٹائلز لگوالیں ۔ اس سے بھی چھت کی گرمی گھر میں نہ آئے گی۔

٭کمروں سے باہر جاتے وقت لائٹ بند کردیں۔

٭دھوپ اور روشنی کے بغیر زندہ رہنے والے ڑے بڑے گملے دار پودے گھروں کے اندر رکھیں۔

٭تمام کھڑکیوں پر گرمی شروع ہونے سے قبل ہی ونڈو شیڈز یا بلائنڈز لگالیں تاکہ گھر کے اندر گرمی نہ آسکے۔

٭دن کے اوقات میں مشرقی اور مغربی کھڑکیوں پر پردے ضرور ڈالیں تو گھر شام تک ٹھنڈا رہے گا ۔ مغرب کی طرف کھلنے والی کھڑکیوں پر سن کنٹرول یا دوسری منعکس کرنے والی کوئی چیز ضرور لگائیں کیوںکہ سورج غروب ہونے تک انہی سمتوں میں گرمی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

٭گھر میں صحن نہیں تو چھوٹے گملوں، بوتلوں وغیرہ میں بیلیں لگائیں اور دیوار پر کیل لگاکر اسی کی مدد سے انھیں دیوار پر چڑھائیں تو کا گھر ٹھنڈا رہے گا۔

٭ مشرقی اور مغربی سمتوں کی دیوار کو درختوں اور بیلوں سے ڈھک دیں اس سے بھی آپ کا گھر ٹھنڈا رہے گا۔

٭دن کے اوقات میں حرارت خارج کرنے والے برقی آلات کم سے کم چلائیں۔

٭اگر گنجائش ہو تو چھت پر ایک اور کھپریل کی سلوپ والی چھت لگوالیں۔

٭چھت پر لکڑی کی گرل لگاکر بھی گرمی کو کم کیا جاسکتا ہے۔

٭کیوڑے کے پانی کا چھڑکائو کریں۔ گھر میں جگہ جگہ پانی کے برتنوں میں پھولوں کی پتیاں ڈال دیں ساتھ ایک کوئلہ بھی ڈال دیں تو یہ دو تین دن تک تازہ رہیںگی۔ برتنوں کا پانی روز بدل دیں۔

٭گھر میں ٹھنڈک کے احساس کے لیے مٹکے، صراحیاں اور مٹی کے برتنوں کا استعمال کریں۔

٭جن مقامات سے دھوپ اندر آتی ہو وہاں ٹاٹ کے پردے گیلے کرکے لٹکادیں۔

٭سیلٹھے کی باڑھ اس سمت لگائیں جدھر سے دھوپ، تپش آتی ہو۔

٭شیلڈ کے لیے چٹائیوں کا استعمال کریں اور دروازوں پر پانی کا اسپرے کریں۔ مغرب کے بعد تمام کھڑکی دروازے کھول دیں تاکہ گھر مزید ٹھنڈا ہوجائے اور صبح ہوتے ہی بند کردیں۔ یہ اور اس جیسے دیگر اقدامات سے آپ گھر کو ٹھنڈا رکھ سکتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...