اذیت ناک امراض اور ان کا علاج

0 29

مرض اور صحت کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ حضرت انسان کی پیدائش سے لے کر قیامت تک یونہی چلتا رہے گا۔ جو لوگ حفظانِ صحت کے اصولوں پر کار بند رہتے، فطری رہن سہن اپناتے اور فطری خورو نوش کے اجزاء استعمال کرتے ہیں۔

وہ کافی حد تک امراض کی شر انگیزیوں سے بچے رہتے ہیں اور جو لذت، مزے اور سہولت کے چکر میں پڑتے ہیں وہ اکثر کسی نہ کسی مرض کے چنگل میں پھنسے رہتے ہیں۔ یہاں ہم آپ کو چند امراض کے جنم کی وجوہات، تشخیص اور علاج کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں، جن سے استفادہ آپ کے لئے نہایت مفید ہو گا۔

قبض کے نقصانات
قبض کی بیماری ناقص غذا، تلے بھنے اور میٹھے پکوان، کولا مشروبات، بیکری مصنوعات، چاول،فاسٹ فوڈز اور سہل پسند طرز زندگی کے نتیجے میں مسلط ہوتی ہے۔ غیر معیاری،ملاوٹ شدہ اور ناقص غذائی اجزا کے متواتر استعمال سے میٹا بولزم برباد ہو جاتا ہے اور جب میٹابولزم کی کارکردگی سست اور غیر تسلی بخش ہوتی ہے تو انسانی بدن ان گنت امراض کے چنگل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔

ADVERTISEMENT

اسی لیے قبض کو ماہرین ام الامراض کا نام دیتے ہیں۔ قبض کو اس لیے بھی بیماریوں کی ماں کہا جاتا ہے کہ یہ انتڑیوں کو بالواسطہ طور پر متاثر کرتی ہے جبکہ انسانی جسم کی 80 فیصد تک کارکردگی کا دارو مدار انتڑیوں کی صحت مندی پر ہوتا ہے اور یوں قبض دیگر اعضاء کو متاثر کرنے کا سبب بنتی ہے۔ قبض سے بچنے کا بہترین طریقہ پھلوں، سبزیوں اور ریشے والی غذاؤں کا زیادہ استعمال ہے۔

قارئین!آپ اپنے روز مرہ معمولات اور خورونوش کی عادات میں تبدیلی پیدا کر کے بھی قبض جیسی موذی بیماری سے با آسانی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ صبح و شام نہار منہ بدن کو گرمانے والی ورزشیں کرنے سے بھی میٹا بولزم تیز ہونے سے معدے کے کئی امراض سمیت قبض سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ قبض سمیت امراض معدہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے چار عرق کا مرکب نیچرو پیتھی لا جواب دوا تصور کیا جاتا ہے۔

ہر کھانے کے بعد چار عرق ایک نارمل سائز کپ پی لیا جائے۔رات سوتے وقت چند دن گل قند کی ایک چمچی ،روغن بادام ایک چمچی ایک گلاس نیم گرم دودھ میں ملا کر استعمال کرنے سے بھی قبض سے فوری افاقہ ملتا ہے۔کچی سبزیاں،موسمی پھل اور پھلوں کا رس حسبِ ضرورتِ بدن اور گنجائش استعمال کرنے،ناشتے میں جَو یا گندم کا دلیہ پانی سے تیار شدہ کھانے سے بھی قبض جیسی موذی بیماری سے بچاؤ رہتا ہے۔ قبض کا سبب بننے والی غذاؤں سے مکمل پر ہیز اور صبح و شام تیز قدموں کی سیر و ورزش باقاعدگی سے کرنے والے افراد ہمیشہ قبض اور اس سے جڑے مسائل سے محفوظ رہتے ہیں۔

کانوں میں شور
ایسے افراد جن کے مزاج میں بلغمی مادوں کی زیادتی پائی جاتی ہو یا جو طویل عرصے تک زکام اور دائمی نزلے میں مبتلا رہتے ہوں تو انہیں کانوں میں شور اور اس جیسے دوسرے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ دماغی جھلیوں میں بلغمی رطوبات جمع ہوجانے، حلق میں متواتر ریشہ گرتے رہنے اور بادی کا غلبہ ہوجانے سے کانوں کے رستے پیپ یا ریشہ نکلنے، سماعت کمزور ہونے یا کانوں میں شور کی آوازیں پیدا ہونے اور سماعت میں کمی جیسے مسائل رونما ہوجانا فطری امر ہے۔ ایسے تمام لوگ جو کانوں میں شور یا سماعت میں کمی جیسے مسائل میں مبتلا ہوں۔

وہ سب سے پہلے تو بادی غذائی اجزاء کا استعمال ترک کریں۔ چاول، دال ماش، دودھ، دہی، بیگن، آئس کریم، چوکلیٹ، آلو، گوبھی، نان، سموسے، پکوڑے، پیزا، برگر، نمکو، پراٹھا، برف اور مرغن وترش خوراک سے مکمل پرہیز کریں۔ بطورِ گھریلو طبی ترکیب ہرڈ سیاہ 50 گرام دیسی گھی میں بھون کر100 گرام مغز بادام اور 150 گرام دیسی شکر ملاکر مرکب تیار کریں۔

ایک چمچی رات سوتے وقت کھاکرایک کپ دودھ میں زیرہ سفید پکا کر پی لیا کریں۔ حرمل کے بیج کی ایک چمچی حسب ضرورت زیتون کے روغن میں جلا کر دو دو قطرے دونوںکانوں میں رات سوتے وقت ڈال لیا کریں۔ بفضلِ خدا دو سے تین ہفتے متواتر استعمال کرتے ہی کانوں میں سنائی دینے والی آوازیں ختم ہو کر اس سے جڑے تمام بدنی مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا۔ آئندہ بلغم پیدا کرنے والے غذائی اجزاء کے استعمال سے کچھ عرصہ دور رہیں تاکہ بدن میں بلغمی افزائش بند ہو جائے۔

سر میں پھنسیاں بننا
ایسے افراد جو پروٹینی غذائی اجزاء کا قدرے زیادہ استعمال کرتے ہیں یا جن افراد میں سوداوی مادے کی افزائش تو زیادہ ہوتی ہو لیکن ان کے خون میں آکسیجن ان ٹیک لیول مناسب نہیں ہوتا تو سودا کے اخراج کے لیے جلدی مسام اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ چونکہ ایک صحت مند انسان کے چہرے اور دماغ کی طرف آکسیجن کی روانی مناسب ہونا اس کی صحت مندی کی دلیل بھی مانی جاتی ہے یوں خلط سودا کی اضافی مقدار جلدی مساموں کے رستے خارج ہونے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔علاوہ ازیں بہت زیادہ گھنے بال ہونے یا ہر وقت سر پر ٹوپی وغیرہ رکھنے کی صورت میں سر کی جلد کو مناسب آکسیجن نہ مل سکنے کی وجہ سے بالوں کی جڑوں میں گرد کے ذرات وغیرہ جم جانے سے سر کے جلدی مسام بند ہوجاتے ہیں۔

سر کی جلد اور بالوں میں جمع شدہ متعفن اور فاضل رطوبات کے اخراج کے لیے بھی سر میں دانے نکلنے لگتے ہیں۔بسا اوقات گرم تیل جیسے ناریل، زیتون، ارنڈی،انڈہ اور کلونجی وغیرہ کے روغن سر میں لگانے سے بھی گرمی اور حرارت کو متوازن کرنے کے لیے سر میں دانے وغیرہ نکلنے لگ جایا کرتے ہیں۔ چکنائیاں، مٹھائیاں،مرغن اور قابض غذاؤں کے استعمال سے بھی دانے نکلنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ لہذا متاثرہ لوگ سب سے پہلے تو اپنے معاملات پر دھیان دیں کہ مذکورہ بالا اسباب میں سے کون سا سبب ہے جو سر میں دانوں کا باعث بنا ہوا ہے؟

سبب ختم کر دینے سے ہی مسئلہ ختم ہو جائے گا۔بطور علاج اخروٹ کے چھلکے کی راکھ روغنِ کدو میں ملا کر سر کے دانوں پر لگانے سے دو چار بار لگانے سے ہی دانے ختم ہو جایا کرتے ہیں۔ بال چھوٹے کروا کر دھوپ میں خشک کریں اور ہوا لگنے دیں۔جب تک دانے ختم یا نکلنا بند نہ ہو جائیں تو تیل وغیرہ لگانا چھوڑ دیں۔ پانی کی مناسب مقدار،پھلوں کے جوسز کے استعمال اور کھلی ہوا میں ورزش کو اپنے معمول کا لازمی حصہ بنا لیں۔گرم خشک،مرغن،بادی اور پروٹینی غذاؤں سے مکمل پرہیز کریں، سر اور چہرے کے دانے ختم ہو جائیں گے۔

موٹاپا اور نفسیاتی مسائل
طبی ماہرین کے نزدیک موٹاپہ یا وزن کا بڑھنا کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ آدمی احساسِ کمتری میں مبتلا ہوکر اپنی خوشیوں کا خود ہی گلا گھونٹنے لگ جائے۔ موٹاپے میں مبتلا تمام افراد کے لیے ہمارا مشورہ یہی ہے کہ فوری جنگی بنیادوں پر کمر کس لیں اور اپنے روز مرہ معمولات اور خورو نوش کی عادات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں حفظانِ صحت کے اصولوں کے تابع کرنے کی تگ و دو شروع کر دیں۔ مٹھائیاں، چکنائیاں،چوکلیٹس، آئس کریم،کولا مشروبات،میدے کی مصنوعات،چاول ،بادی غذائیں اور سہل پسندی و تن آسانی کو خیر باد کہہ دیں۔

روزانہ صبح و شام نہار منہ آدھ گھنٹہ بھرپور جسمانی ورزشیں کریں اور میٹا بولزم کو تیز کرنے کے لیے کسی ماہر سے مشاورت کریں۔ بطورِ گھریلو ترکیب مکو دانہ،زیرہ سیاہ اور کلونجی کا سفوف بنا کر آدھی چمچی دن میں دو بار پانی کے ایک کپ میں پکا کر بطورِ قہوہ استعمال کریں۔انشا ء اللہ چند ہفتوں میں ہی وزن میں کمی ہو کر موٹاپے کی جگہ سمارٹنس اور صحت مندی آنے لگے گی۔

بواسیر کے مسائل
بواسیر ایک اذیت ناک اور تکلیف دہ بیماری ہے اور ایسے افراد میں زیادہ پائی جاتی ہے جو ذہنی دباؤ اور اعصابی تناؤکی فضا میں کام کرتے ہیں۔ مرغن، بادی، گوشت، تیز مرچ مصالحے، چاول، بیگن، فاسٹ فوڈز اور ثقیل غذاؤں کے شوقین افراد بھی بواسیر میں مبتلا دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ بیماری بڑی آنت اور مقعد کی سوزش کے نتیجے میں پیدا ہو کر مبتلا افراد کو ذہنی ،بدنی اور نفسیاتی مسائل میں پھنسا دیتی ہے۔ ایسے افراد جن میں خلط سودا کی افزائش قدرتی طور پر زیادہ ہوتی ہو یا سواد پیدا کرنے والے غذائی اجزاء کے استعمال سے خلط سودا بڑھ جائے کو بھی بواسیر تنگ کرنے لگتی ہے۔چائے اور سگریٹ نوش،پان،تمباکو اور نسوار کھانے والے افراد بھی اس موذی مرض کے چنگل میں گرفتار دیکھے جا سکتے ہیں۔ متواتر اینٹی بائیو ٹیک اور دافع امراض قلب کی ادویات استعمال کرنے والے لوگ بھی اکثر بواسیر کی بیماری مبتلا پائے جاتے ہیں۔

گرمی کی نسبت سردی اور بہار کے موسموں میں بواسیر کی شدت کی ایک بڑی وجہ پانی کا کم استعمال اور مرغن و توانائی سے بھرپور غذاؤں کا استعمال بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو قبض نہ ہونے دیں کیونکہ بواسیر کی بنیاد قبض ہی بنا کرتی ہے۔ پانی، پھل، پھلوں کے جوسز اور کچی سبزیوں کا مناسب استعمال کر کے ہم کافی حد تک بواسیر کے حملے سے بچ سکتے ہیں۔انجیر تین سے 7 عدد پانی میں بھگو کر نہار منہ کھانا بھی بواسیر کی بیماری سے جان چھڑانے میں مددگار بنتا ہے۔ بطورِ علاج ریٹھے کے چھلکے،مغز نیم اور رسونت ہم وزن پیس کر 250 ملی گرام کیپسول بھر کر کھانے کے بعد ایک کیپسول کھانا شروع کر دیں۔بفضلِ خدا ہفتے عشرے میں ہی افاقہ ملے گا۔تیز مرچ مصالحے، گوشت، چاول،فاسٹ فوڈز،بیگن،مرغن و بادی غذائیںاورسگریٹ وچائے نوشی ترک کر کے بھی بواسیر کی اذیت سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

گھنٹیا (جوڑوں کا درد)
اتھرائیٹس جسے عام طور پہ گھنٹیا کا مرض کہا جاتا ہے، میں انسانی بدن کے تمام جوڑ متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتے اور عام آدمی اس بیماری کو جوڑوں کے درد کا نام دیتا ہے۔ جدید میڈیکل سائنس کی رو سے جوڑوں کے درد کا سب سے بڑا سبب یورک ایسڈ کو سمجھا جاتا ہے۔علاوہ ازیں کولیسٹرول اور ٹرائیگلائسرائیڈز کی اضافی مقداریں بھی اس مرض کا ذریعہ بنتی ہیں ۔

خون میں سوڈیم،پوٹاشیم اور کیلشیم کی بڑھی ہوئی مقدار بھی جوڑوںکے درد کا باعث بنتی ہے۔ نیچرو پیتھی کے مطابق آتشک،سوزاک نمونیہ، موٹاپہ چوٹ لگنا،خرابئی معدہ،گوشت کا زیادہ استعمال،شراب نوشی،قبض ،غذائی بے اعتدالی اور زہریلے بخاروں کے اثرات کے علاوہ سودا،صفرا،خون اور بلغم میں سے کسی ایک خلط کی طبعی مقدار سے زیادتی بھی جوڑوںکے درد کا سبب ہو سکتی ہے۔

روز مرہ غذاؤں میں گوشت، چاول، دالیں، لوبیا، مٹر، پالک، بیگن، چائے، سگریٹ وشراب نوشی، کولا مشروبات،بیکری مصنوعات اور بادی و ترش اشیا کا استعمال بھی گھنٹیا کا باعث بنتا ہے۔ گھنٹیا سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ مذکورہ بالا غذاؤں کو ترک کر دیا جائے اور ورزش کو معمول بنایا جائے۔ اکثر مریض یہ گلہ کرتے ہیں کہ ہم سے چلا نہیں جاتا لیکن دھیان رہے کہ ورزش کا مطلب ہی مشقت اور کسرت کرنا ہے۔بعد از عشرہ جسم خود بخود ہی رواں ہو جائے گا اور آپ گھنٹیا کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے بدنی مسائل سے بھی محفوظ ہو جائیں گے۔

جب جوڑ سخت ہوگئے ہوں اور سوزش بھی نمایاں ہو تو ایسے میں جوڑوں کو نرم کرنے اور حرکات کو متوازن کرنے کے لیے بیری کے پتوں کے جوشاندے سے جوڑوں پر ٹکور کرنا انتہائی مفید ہے اور اگر بیرے کے پتوں کے پانی سے نہا لیا جائے تو جسمانی دردوں سے بھی نجات میسر آتی ہے۔ بیری کے پتوں کو پانی میں ابال کر ماؤف جوڑوں پر ہلکا ہلکا پانی ڈالیں۔

دس پندرہ منٹ پانی سے ٹکور کرنے کے بعد میجک آئل سے مساج کریں۔ مساج کر نے کے بعد تقریباََ نصف گھنٹہ جوڑوںکو ہوا نہ لگنے دیں۔ بفضلِ خدا جلد ہی جوڑ نرم ہوکر تکلیف میں کمی کا اشارہ دیں گے۔ بطورِ طبی ترکیب اجوائن، گلو اور سونٹھ ہموزن پیس کر نصف چمچ چائے والا دن میں تین بار استعمال کریں۔پانچ سے سات ہفتوں کے استعمال سے گھنٹیا سے نجات حاصل ہو گی۔علاوہ ازیں سورنجاں شیریں ایک تولہ کو سبز دھنیا کے ساتھ پیس کر پیسٹ بنا لیں۔ ماؤف جوڑوں پر لیپ کرنے سے درد اور سوجن سے فوری افاقہ ہوگا۔

غیر ضروری طور پر پروٹینز،شوقیہ ملٹی وٹامنز اور سدا جوان رکھنے والی بازاری دواؤں اور غذاؤںسے اجتناب کر نا گھنٹیا جیسے موذی مرض سے بچاتا ہے۔یاد رکھیں !ورزش ہمارے جسم میں غیر ضروری جمع ہونے والے زہریلے مادوں کو ختم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ دو کھانوںکے درمیان کم از کم 6 سے 8 گھنٹوں کا وقفہ لازمی کریں تاکہ معد ہ اپنے نظامِ ہضم کو متواتر اور متوازن رکھ سکے۔پنجگانہ نماز مذہبی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں کئی ایک بدنی و روحانی مسائل با الخصوص جوڑوں کے درد سے محفوظ رکھتی ہے۔ کیوں کہ اس میں جسم کے تمام جوڑوں کی ورزش بلا تعطل ہوتی رہتی ہے۔سبزیوںاور پھلوں کو اپنی غذا کا لازمی حصہ بنائیں۔بعض پھل اور سبزیاں امراضِ گردہ و پتہ،یورک ایسڈاور جوڑوں کے درد میں پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں، لہٰذا اپنے معالج کی ہدایات پر عمل کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...