اسمارٹ فون نوجوان نسل میں ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف کا سبب

0 22

لاس اینجلس: 

امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون کا استعمال بڑھنے سے نئی نسل میں گردن اور ریڑھ کی ہڈی سے متعلق تکالیف میں بھی اضافہ ہورہا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔

سیڈارز سینائی میڈیکل سینٹر لاس اینجلس میں کی گئی تحقیق کے محققین کا کہنا ہےکہ اسپتالوں میں گردن اور ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف کی شکایت لے کر آنے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، البتہ زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان تکالیف میں مبتلا افراد کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں اصولی طور پر ایسی کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ریڑھ کی ہڈی اور گردن میں درد جیسی کیفیات عام طور پر ادھیڑ عمری یا بڑھاپے میں نمودار ہوتی ہیں۔

ابتدا میں ماہرین کو معلوم ہوا کہ گردن کی تکلیف کی شکایت کرنے والے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت نہ صرف روزانہ زیادہ وقت کے لیے اسمارٹ فون استعمال کرنے کی عادی تھی بلکہ پورے دن میں درجنوں ٹیکسٹ میسجز کیا کرتی تھی۔

ماہرین نےاسمارٹ فون کے زیادہ استعمال اور ریڑھ کی ہڈی/ گردن کی تکلیف کا آپس میں تعلق دریافت کرنے کے لیے مزید چھان بین کی تو انکشاف ہوا کہ جو لوگ چلتے پھرتے اور اٹھتے بیٹھتے، ہر وقت اسمارٹ فون استعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیں انہیں اس مقصد کے لیے زیادہ دیر تک اپنی گردن بھی خاص انداز میں ٹیڑھی کرکے رکھنا پڑتی ہے اور اگر وہ بیٹھے ہوں تو ٹیکسٹ میسج پڑھنے یا بھیجنے کے لیے انہیں عام طور پر جھکنا پڑتا ہے جس سے ان کی ریڑھ کی ہڈی میں بھی خاصی دیر کے لیے خم پڑ جاتا ہے، اگر یہی سلسلہ لمبے عرصے تک برقرار رہے تو اس کے نتیجے میں ریڑھ کی ہڈی اور گردن میں مستقل شدید درد ہوسکتا ہے۔

اس سے پہلے طبّی ماہرین یہ معلوم کرچکے تھے کہ سر جھکا کر ٹیکسٹ میسج بھیجنے یا وصول کرنے سے گردن پر دباؤ پڑتا ہے اور وقتی تکلیف ہوسکتی ہے جب کہ اس کیفیت کو ’’ٹیکسٹ نیک‘‘ (text neck) کا نام دیا گیا تھا تاہم ریڑھ کی ہڈی اور گردن میں مسلسل رہنے والی تکلیف اس قصے کا ایک نیا پہلو تھی۔

اپنی ابتدائی دریافت کی مزید تصدیق کے لیے ماہرین نے مختلف امریکی اسپتالوں سے ریڑھ کی ہڈی اور گردن کے درد میں مبتلا مریضوں کے اعداد و شمار جمع کیے جن کا تجزیہ کرنے پر ان کے خیالات درست ثابت ہوئے۔

’’دی اسپائنل جرنل‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے اپنے ایک ریسرچ پیپر میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسمارٹ فون کے استعمال میں احتیاط نہ برتی گئی تو شاید ہماری آئندہ نسل کم عمری ہی سے ریڑھ کی ہڈی اور گردن کی ایسی بیماریوں کا شکار ہونے لگے گی جو فی الحال صرف ادھیڑ عمر اور بوڑھے افراد ہی سے مخصوص تصور کی جاتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...