خواہ تیز دوڑیں یا آہستہ، روزانہ کی چہل قدمی زندگی بڑھاتی ہے

0 35

آئیووا: 

ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ جسمانی محنت کا متبادل کوئی نہیں اور فی ہفتہ ایک گھنٹے کی تیز یا آہستہ جاگنگ زندگی میں 7 گھنٹے کا اضافہ کرسکتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ خواہ تیز دوڑا جائے یا آہستہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے ٹیکساس میں واقع کواوپر انسٹی ٹیوٹ کے ڈیٹا کا جائزہ لیا ہے جس میں جاگنگ کی عادت اور موت کے درمیان تعلق تلاش کیا گیا ہے جو اس سے قبل کی گئی تحقیقات کی تصدیق کرتا ہے۔ خواہ روزانہ آپ کتنا ہی چلیں یا کتنی ہی رفتار سے دوڑیں اس سے قبل ازوقت موت کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل سائنسدانوں کی اسی ٹیم نے 55 ہزار بالغ افراد کا جائزہ لے کر انکشاف کیا تھا  روزانہ صرف 7 منٹ دوڑنے سے دل کے دورے کا خطرہ بڑی حد تک کم ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد ایک اور سروے میں اگلے 15 برس تک شرکا کا جائزہ لیا جاتا رہا کہ مرنے والے 3 ہزار افراد میں ایک تہائی (33 فیصد) اموات ہارٹ اٹیک سے واقع ہوئی تھیں۔

اس رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک پروفیسر ڈک چل لی نے بتایا کہ اس سروے میں ہم نے ایک گھنٹے، دو گھنٹے یا تین گھنٹے فی ہفتہ دوڑنے کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ ان میں سے بعض شرکا نے اعتراف کیا کہ وہ فی ہفتے اوسط دو گھنٹے تک دوڑتے ہیں۔

سروے سے معلوم ہوا کہ چہل قدمی اور سائیکل چلانے سے قبل از وقت موت کا خطرہ 12 فیصد تک ٹل جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوڑنے اور جسمانی ورزش سے ہائی بلڈ پریشر کو ٹالنے اور جسمانی چربی گُھلانے میں مدد ملتی ہے۔  اس کے علاوہ ایئروبک ورزشیں بھی بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ اگر آپ 50 سال کے ہیں اور ہفتے میں ایک سے دو گھنٹے دوڑتے ہیں تو اس سے زندگی میں اوسط تین سال کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...