پہلی دفع

0 68

ایک چوبیس سال کا لڑکا چلتی ٹرین سے باہر دیکھ کر اونچی آواز میں چلاتا ہے کہ دیکھو بابا! درخت پیچھے رہے گئے ہیں‘ ہم بہت تیزی سے آگے جا رہے ہیں‘باپ اس کی طرف دیکھتا ہے اور خوش ہو کر مسکرا دیتا ہے‘ ایک نوجوان جوڑا بھی چوبیس سال کے لڑکے کے قریب بیٹھا ہوتا ہے اور غور سے اس کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور سوچ رہا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا ہو گیا ہے اور کتنی بچگانہ حرکتیں کر رہا ہے‘شاید یہ کوئی ذہنی مریض ہے جو باپ کو پریشان کر رہا ہے‘اچانک سے پھر لڑکا چلاتا ہے‘دیکھوبابا! بادل بھی ہمارے ساتھ ساتھ بھاگ رہے ہیں‘آخر کار اس جوڑے سے رہا نہ گیا اور لڑکے کے باپ کو کہنے لگے کہ آپ اپنے بیٹے کو کسی اچھے ماہر نفسیات کے پاس کیوں نہیں لے کر جاتے؟

بوڑھا آدمی مسکرا یا اور کہا ”ہم ابھی ابھی ڈاکٹر کے پاس سے آ رہے ہیں لیکن ماہر نفسیات کے پاس سے نہیں‘ ہم ہسپتال سے واپس آ رہے ہیں‘میرا بیٹا پیدائشی اندھا تھا‘ اس نے آج پہلی دفعہ دنیا کو اپنی نظر سے دیکھا ہے‘آج 24 سال بعد اس کو اپنی نظر سے دنیا کو دیکھنے کا موقع ملا ہے‘اس کا یہ رویہ آپ کے نزدیک احمقانہ ضرور ہوگا لیکن میرے لئے یہ کسی معجزہ سے کم نہیں ہے‘وہ جوڑا لڑکے کے باپ کے پاس آکر بہت سے ان کہے الفاظ اور آنکھوں میں شرمندگی کے آنسو لئے ہوئے بیٹھ جاتا ہے اور ان کی خوشی میں شامل ہوجاتا ہے‘دنیا میں ہر انسان کی کوئی نہ کوئی کہانی ضرورہوتی ہے لیکن ہم لوگوں کو بہت جلد دوسروں کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کرنا اور رائے دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں یہ نہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کون ہیں اور ان کامسئلہ کیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...