اصغر خان کیس،تحریک انصاف نے سرپرائز دیدیا

0 47

اسلام آباد(آئی این پی)تحریک انصاف نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ(ایف آئی اے ) سے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق معلومات کی فراہمی سمیت 12سوال پوچھ لیے۔تحریک انصاف نے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر ڈی جی ایف آئی اے کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ دائرکر انے کی دھمکی دیدی۔بدھ کو اس حوالے سے پی ٹی آئی کے ترجمان فواد حسین چوہدری کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل وفاقی

تحقیقاتی ادارہ محمد عملش کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہسپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل تیں رکنی پینچ نے کم و بیش سولہ برس بعد 19 اکتوبر 2012 کو سنائے گئے مختصر فیصلے کی کے انیس روز بعد اس مقدمے کاہ 141 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا تھااور ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ آئینِ پاکستان اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے قواعد و ضوابط کی رو سے آپ پر یہ لازم تھا کہ آپ عدالتِ عظمی کے حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کیلئے تدبیر کرتے اور اقدامات اٹھاتے۔ آج جبکہ اس حکمنامے کے اجرا کو قریبا ساڑھے چار برس کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، میں آپ سے ملتمس ہوں کہ آپ اس بارے میں قوم کیلئے معاملے کے چند اہم پہلوں کی وضاحت فرمائیے کہ: سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کیلئے آپ کے ادارے کی جانب سے اب تک کیا اقدامات اٹھائے گئے؟ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں معاملے کی چھان بین کیلئے کیا تدبیر اختیار کی گئی؟ معاملے کی تحقیقات کیلئے آیا کوئی تحقیقات کمیٹی قائم کی گئی؟ کمیٹی کو جو ذمہ داری(مینڈیٹ) سونپی گئی ہے اس کے خدوخال کیا ہیں؟ کمیٹی کی ہیئت اور ترکیب کیا ہے اور اس نے اپنے قیام سے آج تک کتنا کام مکمل کیا ہے؟ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے عدالتی حکم کی روشنی میں کتنے

افراد سے تحقیقات کا فیصلہ کیا؟ نواز شریف اور دیگر کیخلاف کریمینل انوسٹیگیشن کی کیفیت کیا ہے؟ اگر اب تک نواز شریف اور دیگر کرداروں کو تحقیقات میں شامل نہیں کیا گیا تو اسکی کیا وجوہات ہیں؟کیا نواز شریف کا وزارت عظمی کے منصب پر بیٹھنا سپریم کورٹ کی واضح حکم عدولی کی بنیاد اور جواز فراہم کرتا ہے؟ اگر آپ اور آپ کا ادارہ نواز شریف اور ان جیسے بااثر افراد کیخلاف سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود کارروائی کی سکت نہیں رکھتے تو عام ملزمان کی پکڑ کیوں کی جاتی ہے؟

وفاقی تحقیقاتی ادارے کی اب تک کی ناقابل فہم و جواز غفلت اور مجرمانہ طرز عمل کا حقیقی ذمہ دار کون ہے؟ کیوں نہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے از سرنو عدالت عظمی ہی سے رجوع کیا جائے اور آپ کیخلاف توہین عدالت، اعانتِ جرم، منصب سے خیانت، فرائض میں غفلت، جرم کے تحفظ سمیت اسی نوعیت کے دیگر غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی طرز عمل کی پاداش میں آپ کا کڑا محاسبہ کیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

Comments

Loading...